سوال: ہندوستان کی کئی یونیورسٹیوں میں، اور باہر کی کچھ یونیورسٹیوں میں بھی اسلامک اسٹڈیز کے نام سے شعبے قائم ہیں۔ ہمارے مدارس میں بھی اسلام کے مطالعے کا انتظام ہے۔ یہ دونوں ایک ہیں یا ان میں کوئی فرق ہے؟ سیکولر یونیورسٹیوں میں اور دینی مدارس میں اس اعتبار سے اگر کوئی فرق ہے تو وہ کیا ہے؟
ندیم احمد ثناء ملی، دہلی۔ جواب: سیکولر یونیورسٹیوں میں اسلام کے مطالعے کا تصور اس سے مختلف ہے جو ہمارے دینی مدارس میں پایا جاتا ہے۔ دینی مدارس میں اسلام کا مطالعہ ایک مقدس الہامی مذہب کے طور پر کیا جاتا ہے، جبکہ سیکولر یونیورسٹی میں اسلام یا کسی اور مذہب کا مطالعہ صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ ایک تاریخی ظاہرہ یا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اصحاب مدارس کے مطالعے کا طریقہ داخلی یعنی سبجیکٹو ہے، اور اصحاب یونیورسٹی کا طریقہ خارجی یعنی ابجیکٹو ہے۔
اس کو ایک عملی مثال سے سمجھیے: مثلاً اسلام کے دورِ اول میں حسین ابن علی اور یزید ابن معاویہ کی فوجوں کے درمیان مسلح ٹکراؤ ہوا۔ یزید ابن معاویہ کی فوج نے حسین ابن علی کو شہید کر دیا۔ اس واقعے کو اہلِ مدرسہ اس نظر سے دیکھیں گے کہ حسین ابن علی پیغمبرِ اسلام کے نواسے تھے، اور پھر اسی جذباتی وابستگی کے تحت اپنی رائے قائم کریں گے۔ اس کے برعکس سیکولر ذہن کے لوگ اس کو سادہ طور پر صرف ایک تاریخی واقعے کی حیثیت سے لیں گے، اور بے لاگ خارجی معلومات کی روشنی میں اس کا اندازہ یعنی اسیسمنٹ کریں گے۔
اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صاحبِ مدرسہ سارے معاملے کو حسین کی معصومیت اور یزید کے ظلم کے نقطۂ نظر سے دیکھیں گے۔ اس کے برعکس یونیورسٹی کے لوگ خالص خارجی حقائق کی روشنی میں اس پر رائے قائم کریں گے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اہلِ مدرسہ یہ کہیں گے کہ یزید پلید کی فوجوں نے نواسۂ رسول کو مظلومانہ طور پر شہید کیا۔ اس کے برعکس دوسرا فریق یہ کہے گا کہ حسین ابن علی کے اقدام کی حیثیت دمشق کی خلافت کے نزدیک بغاوت کی تھی۔
اس لیے خلافتِ دمشق کی فوجوں نے حسین ابن علی کے خلاف جو اقدام کیا، وہ وہی تھا جو ہر قائم شدہ حکومت کرتی ہے۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 164۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.