Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-154)

Urdu · 2 min

सवाल: मैं स्वामी विवेकानंद का पैरव हूँ, मैं उनकी किताब आपको भेज रहा हूँ। سوامی جی کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب ایک ہی سچائی کی طرف جانے کے الگ الگ راستے ہیں، چاہے وہ ہندوازم ہو یا مسیحیت ہو یا اسلام ہو یا سکھ ازم ہو یا یہودیت ہو۔ میرے نزدیک اسی کا پرچار کیا جانا چاہیے تاکہ لوگوں کے اندر ایکتا پیدا ہو۔ D. N.

Malhotra, Dilshad Garden, Dehli. جواب: وحدتِ ادیان کے اس تصور سے مجھے اتفاق نہیں؛ سچائی کبھی متعدد نہیں ہو سکتی۔ سچائی اگر ایک نہ ہو تو وہ سچائی نہیں۔ وحدتِ ادیان کے اس نظریے کے حق میں کوئی بھی منطقی دلیل موجود نہیں۔

یہ پورا نظریہ صرف تمثیلات کے اوپر قائم ہے، اور تمثیل سے کبھی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ چنانچہ کہا گیا ہے: "Analogy is the weakest form of argument." سچائی کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ آدمی کو یقین عطا کرے۔ دنیا میں جینے کے لیے آدمی کو یقین کا سرمایہ درکار ہے، اور سچائی آدمی کو یہی یقین دیتی ہے۔ میں نے سچائی کو پا لیا، یہ یقین صرف کسی ایک چیز پر قائم ہو سکتا ہے، نہ کہ متعدد چیزوں پر۔

نہ کہ متعدد چیزوں پر۔ انسانی سماج میں ایکتا بلاشبہ ضروری ہے، مگر یہ ایکتا "میں بھی سچا، تم بھی سچے" جیسے مصنوعی نظریے پر قائم نہیں ہو سکتی۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کا حقیقی ذریعہ یہ ہے کہ اخلاقی تقاضے کے تحت ہر ایک دوسرے کو قابلِ عزت سمجھے۔ میرے نزدیک مذہبی اتحاد کا درست فارمولا یہ ہے: ایک کی پیروی کرو اور ہر ایک کی عزت کرو، "Follow one and respect all." کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 154۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.