Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-152)

Urdu · 3 min

سوال: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں مسلم عوام میں بہت کم واقفیت ہے۔ اس کی کیا اہمیت ہے؟ مسلمان کے لیے اس پر عمل کرنا واجب ہے یا فرض ہے؟ موجودہ زمانے میں اس کا اطلاق کس طرح سے کیا جا سکتا ہے؟

مہربانی کر کے الرسالے میں اس کو بتائیں۔ محجوب کے بارے میں بھی معلومات صحیح نہیں ہیں۔ آپس میں اس کو لے کر غلط فہمیاں ہیں۔ کچھ لوگوں کے ساتھ ناانصافی بھی ہو رہی ہے۔

عوام میں اس کو لے کر الجھن و تشویش ہے۔ اس ضمن میں بھی گزارش ہے کہ آپ ایک مضمون ضرور لکھیں۔ قرآن میں اس کا ذکر لوگ نہیں بتاتے، لیکن کچھ علماء نے اس کو صحیح بتایا ہے، کچھ نے اختلاف بھی کیا ہے۔ مہدی حسن، وارانسی۔

جواب: مذکورہ دونوں مسئلے کے بارے میں الرسالے میں مضامین آ چکے ہیں۔ دوسرے علماء نے بھی اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اس معاملے میں اصل مسئلہ واقفیت کا نہیں ہے بلکہ عمل کے جذبے کا ہے۔ موجودہ مسلمانوں میں عمل کا جذبہ نہیں، اس لیے وہ مسئلہ پیدا ہوا جس کا آپ نے ذکر کیا۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تعلق حکومت سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق افراد سے ہے۔ اس کی اصل یہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں دوسرے مسلمان کے لیے خیرخواہی کا جذبہ ہو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا مددگار بننا چاہتا ہو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو انصاف اور دیانت کی روش پر دیکھنا چاہیے۔

اسی جذبے کی مخلصانہ تعمیل کا نام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ایک دوسرے کے لیے خیرخواہی نہیں۔ اس لیے ان کے درمیان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل بھی جاری نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کے لیے سچی خیرخواہی موجود ہو تو خود فطرت کے زور پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل جاری ہو جائے، خواہ اس کے شرعی مسائل لوگوں کو بتائے گئے ہوں یا نہ بتائے گئے ہوں۔

محجوب پوتے کی وراثت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محجوب پوتے کو وراثت نہ دی جائے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ محجوبیت کی بنا پر بظاہر جو وراثتی لنک ٹوٹ رہی ہے، اس کو وصیت کے ذریعے پورا کر دیا جائے۔ اگر کسی خاندان میں آپ ایسا نہ دیکھیں تو اس کا سبب شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ لوگوں کی سرکشی ہے۔ مثلاً بہن کا حق شرعی طور پر معلوم اور مسلم ہے، مگر بہت کم مسلمان ہیں جو بہن کو اس کا باقاعدہ شرعی حق دیتے ہوں۔

کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 152۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.