سوال: نیشنل اور انٹرنیشنل مسائل میں آپ کا مثبت اپروچ درست ہے۔ ہم کو خوشی ہے کہ آپ جیسا ایک آدمی انڈیا میں موجود ہے، بلکہ یہ پورے ایشیا کے لیے خوشی کی بات ہے۔ میرا شبہ اور اندیشہ صرف یہ ہے کہ کیا مسلمان آنے والے زمانے میں ہندوستان میں پرامن طور پر رہ سکتے ہیں؟ عدنان کریمی، کالا ڈیرہ، ملک پیٹ، حیدرآباد۔
جواب: مسلمان اس ملک میں تعمیری سوچ اور امن پسندی کے ساتھ رہیں گے یا نہیں، یہ اب مستقبل کا سوال نہیں؛ اس کا جواب خود حال کے اندر مل چکا ہے۔ اللہ کے فضل سے ہماری کوششوں کے نتیجے میں اب یہاں کے مسلمان بڑی حد تک بدل چکے ہیں۔ وہ اعراض کا طریقہ اختیار کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ فساد تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ وہ مسائل کو نظرانداز کر کے مواقع کو استعمال کرنے کا فارمولا عملاً اپنا چکے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شہر اور بستی کے مسلمان تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ وہ باہر دیکھنے کا مزاج ترک کر کے وطنی مزاج کے تحت جینا سیکھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں یہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات دن بدن بہتر ہو رہے ہیں۔ وہ احتجاج غیر کا طریقہ چھوڑ کر تعمیر خویش کے اصول کو اختیار کر چکے ہیں، جس کا مثبت نمونہ ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں لوگ اخبار اور میڈیا کے ذریعے اپنی رائے بناتے ہیں، اور میڈیا اپنے مخصوص مزاج کے تحت زیادہ تر منفی واقعات کو لیتا ہے۔
وہ مثبت واقعات کو رپورٹ نہیں کرتا۔ اس لیے اس ہونے والے واقعے سے لوگ ابھی پوری طرح باخبر نہیں، مگر جلد وہ وقت آئے گا جب کہ یہ واقعہ اتنا نمایاں ہو چکا ہوگا کہ لوگ اخباروں میں چھپے بغیر اس کو جانیں گے اور ٹی وی سکرین پر دکھائے بغیر اس کو دیکھیں گے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 151۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.