Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-150)

Urdu · 3 min

سوال: واقعہ یہ ہے کہ میرا مسئلہ وہی ہے جو بہت سی مسلم لڑکیوں کا مسئلہ ہے، اور وہ میری شادی کا مسئلہ ہے۔ میری ماں آج کل پریشانی میں ہیں، ورنہ وہ خود آپ سے رابطہ قائم کرتیں۔ میرے رشتے کے لیے بہت سے پیغامات آئے، ان میں سے کوئی رشتہ میرے والدین کو پسند نہ آ سکا۔ میں اللہ پر بہت یقین رکھتی ہوں، مگر جب میں اپنے والدین کو پریشان دیکھتی ہوں تو اپنا اعتماد کھو دیتی ہوں۔

میری عمر 20 سال سے زیادہ ہو چکی ہے، میں ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہوں، اور میں نے کمپیوٹر کی ٹریننگ لی ہے۔ آج کل میں ایک اسلامک ویب سائٹ پر کام کر رہی ہوں۔ میری گزارش ہے کہ آپ مجھے کچھ دعا بتائیں اور مشورہ دیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہر ایک کے لیے نکاح کا ایک وقت مقرر ہے۔

اللہ کی رحمت سے میں اپنے کام میں کامیاب ہوں۔ ایک پاکستانی خاتون، انٹرنیٹ سے ترجمہ۔ جواب: مذکورہ قسم کا مسئلہ بہت سی مسلم لڑکیوں کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ میرے نزدیک اس معاملے میں اصل غلطی والدین کی ہے۔

والدین عام طور پر اپنی بیٹی کے لیے ایک آئیڈیل لڑکے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ تلاش اکثر برعکس نتیجے کا سبب بنتی ہے۔ والدین اپنے جذبۂ محبت کے تحت یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ دنیا میں نہ کوئی آئیڈیل لڑکا ہے اور نہ کوئی آئیڈیل لڑکی۔ ایسی حالت میں صحیح بات یہ ہے کہ آئیڈیل کو چھوڑ کر پریکٹیکل کے اصول پر عمل کیا جائے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ شادی کی کامیابی کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ والدین کو اپنی پسند کا لڑکا یا لڑکی مل جائے۔ شادی کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں زندگی کی حقیقتوں سے آشنا ہوں اور حقائق کی بنیاد پر، نہ کہ جذبات کی بنیاد پر باہمی زندگی کی تعمیر کریں۔ ایسی حالت میں والدین کے لیے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زندگی کے عملی حقائق سے باخبر کریں۔ وہ انہیں تیار کریں کہ وہ شادی کے بعد تحمل اور دانشمندی کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں، اور ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہوئے زندگی کی جدوجہد کریں۔

اگر لڑکے اور لڑکی میں اس قسم کا شعورِ حیات موجود ہو تو یقینی طور پر وہ کامیاب زندگی حاصل کر لیں گے، خواہ شادی کے وقت بظاہر ان کی معاشی حالت زیادہ بہتر نہ ہو۔ مذکورہ قسم کی صورت میں والدین کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ لڑکی کی رضامندی لے کر اور اللہ کے بھروسے پر بلا تاخیر نکاح کا معاملہ کر دیں۔ کامیاب زندگی کے معاملے میں وہ اللہ پر بھروسہ کریں، نہ کہ اپنی سوچ اور تدبیر پر۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 150۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.