سوال: اسلام چونکہ ایک دینِ فطرت ہے، اور ربّ العزت نے اس کو انسان کی طبیعت کے عین مطابق بنایا ہے، یہ دین باقی ماندہ ادیان پر غالب ہے۔ آپ متشددانہ طرزِ عمل کے خلاف ہیں۔ ایسی حالت میں چوری کرنے والے یا شراب پینے والے کو شرعی سزا کیسے دی جائے گی؟ محمد ادریس ٹاک کشمیر۔
جواب: اسلام بلاشبہ دینِ فطرت ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے ادیان خلافِ فطرت تھے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ کا بھیجا ہوا ہر دین فطرت کے مطابق ہی تھا، مگر بعد کی تحریفات نے اس کو بدل دیا۔ اسلام اور دوسرے آسمانی مذاہب میں جو فرق ہے، وہ افضل اور غیر افضل کا نہیں ہے؛ وہ فرق یہ ہے کہ پچھلے آسمانی مذاہب تبدیلیوں کی بنا پر غیر مستند ہو گئے، جبکہ اسلام آج بھی اپنی ابتدائی حالت پر باقی ہے۔ مجرم کو شرعی سزا دینا عوام کا کام نہیں؛ یہ ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے جو حالات پر کنٹرول رکھتی ہو۔
عوام کے لیے پرامن تبلیغ و اصلاح ہے، نہ کہ شرعی قوانین کو طاقت کے ذریعے نافذ کرنا۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 148۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.