Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-147)

Urdu · 2 min

سوال نمبر 1: آپ کے مشن سے مجھے پورا اتفاق ہے، مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ مسلمانوں کو صالح بنانے سے پہلے غیر مسلموں کو کس طرح دعوت دی جائے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔ نمبر 2: "الرسالة اردو" کا مطلب چند دن پہلے ایک صاحب کے ذریعے معلوم ہوا، یعنی "سب سے اچھا رسالہ"۔ مجھ کو تعجب اس بات پر ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو اچھا کہے وہی تو سب سے زیادہ برا ہوتا ہے۔

پھر بھی آپ نے عالم ہونے کے باوجود اتنا فخر والا نام کس طرح رکھ لیا؟ اس کی وضاحت کریں، شاہ عمران حسن، مونگیر، بہار۔ جواب: پہلے سوال کا جواب الرسالے میں شائع ہو چکا ہے۔ عرض یہ کہ غیر مسلموں کو دعوت دینی ہے، وہ مسلمانوں کی صالحیت کی طرف نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف ہے۔

چنانچہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ دعوت و تبلیغ کے لیے مسلمانوں کا اصلاح یافتہ ہونا شرط نہیں۔ ملاحظہ ہو: "تفسیر القرآن العظیم" لابن کثیر، الجزء الاول، صفحہ 85۔ دوسرے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ الرسالے کا مطلب سب سے اچھا رسالہ نہیں ہے۔ رسالے کے لیے عربی زبان میں "مجلة" یا "جریدہ" کا لفظ آتا ہے۔

رسالے کا معنی عربی زبان میں "پیغام"، "میسج" کے ہیں۔ الرسالے کا مطلب پیغام، یعنی "the message" ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ جن صاحب نے آپ سے مذکورہ بات کہی، ان کو بتائیے کہ اس طرح کی بات تنقید نہیں ہے بلکہ غلط الزام ہے۔

اسلام میں تنقید کرنا جائز ہے، مگر غلط الزام لگانا یقینی طور پر اسلام میں جائز نہیں۔ کتاب: "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 147۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.