Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

Second question.

Urdu · 3 min

سوال: قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ خدا کی تسبیح اور اس کا ذکر کر رہی ہیں۔ ہر چیز خدا کے ذکر میں مشغول ہے۔ یہاں دنیا میں ایسی بھی چیزیں ہیں جو گندگی کی حالت میں ہوتی ہیں، تو کیا وہ بھی "ذکر" کر رہی ہیں؟ قرآن کی ان باتوں کا اصل مفہوم کیا ہے؟

براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔ خورشید احمد کمار، شوپیان، کشمیر۔ جواب: مذکورہ قسم کی قرآنی آیتوں میں جو "ذکر" بتایا گیا ہے، اس سے مراد ذکرِ قولی نہیں ہے، بلکہ ذکرِ حالی ہے۔ یعنی ان کا وجود اللہ کی قدرت کو بیان کر رہا ہے۔

مثلاً سورج ہم کو روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے۔ اس روشنی اور حرارت میں انسان کے لیے مفید پہلو بھی ہے اور مضر پہلو بھی۔ مگر فطرت کے مخصوص نظام کے تحت انسان کو سورج کا صرف مفید پہلو پہنچتا ہے۔ اس کے مضر پہلو سے انسان محفوظ رہتا ہے۔

یہی معاملہ دنیا کی دوسری تمام مادی چیزوں کا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مذہب اور جدید چیلنج۔ جن چیزوں کو آپ "گندی چیزیں" کہہ رہے ہیں، ان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ مثلاً زمین پر جب بھی کہیں کوئی گندی چیز ظاہر ہوتی ہے، جیسے جانور کا بول و براز، تو فوراً ہی وہاں لاکھوں کی تعداد میں بیکٹیریا اور کیڑے جمع ہو جاتے ہیں، جو ڈی کمپوز کر کے اس کو فضا میں تحلیل کر دیتے ہیں۔

اگر فطرت کا یہ نظام نہ ہوتا تو موجودہ زمین پر انسان کے لیے زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کی چیزوں کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ انسان کے لیے عبرت اور نصیحت بن سکیں۔ اس دنیا کی ہر چیز، خواہ وہ پھول ہو یا کانٹا، انسان کو کوئی نہ کوئی اعلیٰ پیغام دے رہی ہے۔ مثلاً درخت یہ پیغام دے رہے ہیں کہ تم ایک طرفہ طور پر دوسرے انسانوں کے لیے نفع بخش بنو۔

حتیٰ کہ ان چیزوں میں بھی گہرا سبق ہے جن کو آپ "گندی چیز" سمجھ رہے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی نادانی سے گندگی کرے تو تم اس کو مزید بکھیرنے والے نہ بنو، بلکہ پہلی فرصت میں اس کو صاف کرنے کی کوشش کرو۔ تمہارا کام لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالنا ہونا چاہیے، نہ کہ اس کی تشہیر کر کے لوگوں کو بدنام کرنا۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 146۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.