Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-146)

Urdu · 2 min

سوال: کامیاب ازدواجی زندگی میں صرف بہو کو نقطۂ نظر بنایا جاتا ہے؟ یہاں اگرچہ گھر ساس بہو کا ہے، میں نے کچھ الگ دیکھا۔ ایسا کیوں ہے کہ گھر کے سارے جھگڑے کی وجہ بہو کو مانا جاتا ہے؟ کیا سسرال میں بہو کو دائی کی طرح رہنا چاہیے، جو ایک طرفہ ناخوشگواریوں کو برداشت کرے؟

صوفیہ حیدر، بھٹیا، بہار۔ جواب: شرعی اعتبار سے ساس اور بہو دونوں کی ذمہ داری بالکل یکساں ہے۔ ساس کا فرض ہے کہ وہ اپنی بہو کو وہی عزت اور محبت دے جو وہ اپنی بیٹی کا حق سمجھتی ہے۔ اسی طرح بہو کا فرض ہے کہ وہ ساس کے ساتھ اسی عزت اور محبت کا معاملہ کرے جو وہ اپنی ماں کے لیے کرتی رہی ہے۔

اس معاملے میں دونوں میں سے جو بھی کوتاہی کرے گا، وہ یقینی طور پر اس کے لیے آخرت میں پکڑا جائے گا۔ دونوں میں سے کوئی بھی آخرت کی پکڑ سے بچنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر گھر کو امتحان کا مقام بنا دیا ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے امتحان کا پرچہ ہیں۔

اسی طرح ساس اور بہو دونوں ایک دوسرے کے لیے امتحان کا پرچہ ہیں۔ یہ امتحان اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس میں کوتاہی کی تلافی نماز روزے کے ذریعے بھی نہیں ہو سکتی۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 146۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.