سوال: آپ عالمِ دین ہیں، آپ کو ہر سوال کا جواب دینا چاہیے۔ اگر جواب نہیں دیتے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے کہ آپ نے اُس شخص کو اسلام کی باتیں نہیں بتائیں جو آپ سے سوال کر کے جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ قیامت کے دن کیا میں خدا سے عرض نہیں کروں گا کہ مجھے علم نہیں تھا اور میں نے اُن سے علم مانگا، مگر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی؟ شاہ عمران حسن، دلاور پور، مونگیر، بہار۔
جواب: علم کے حصول کا ذریعہ سوال و جواب نہیں ہے، بلکہ مطالعہ ہے اور یا اہلِ علم کی صحبت میں بیٹھنا۔ جو بات ذہن میں آ جائے اُس کو سوال بنانا اور اُس پر لمبے لمبے خطوط لکھنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی اسلام کا طریقہ نہیں کہ کوئی شخص اس قسم کا ایک مضمون استفتاء کے لیے بنائے کہ الرسالے کو پڑھنا جائز ہے یا ناجائز، اور پھر مفتی صاحبان اس پر "الجواب الصحیح" کی مہر کے ساتھ تفصیلی جواب دینا شروع کر دیں۔ اس قسم کا سوال پوچھنا بھی اسلامی روح کے خلاف ہے، اور اُس کا جواب دینا بھی اسلامی روح کے خلاف۔
چنانچہ ایک صحابی کہتے ہیں: وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلِ وَقَالِ كَثْرَةَ السُّؤَالِ صحیح البخاری، کتاب الرقاع۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 145۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.