سوال: الرسالے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ظلم و زیادتی کے خلاف مسلمانوں کو صبر کی روش اختیار کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ظلم و زیادتی پر صبر کرنا تو ظلم و زیادتی کو بڑھاوا دینا ہے۔ اس شبہ کا کیا جواب ہے؟ ندیم احمد ثنابلی، دہلی۔
جواب: اس سلسلے میں پہلی بات یہ کہ قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے ارشاد ہوا ہے کہ "وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آَذَيْتُمُونَ" ۔ ابراہیم 12۔ یعنی تمہاری ایذاؤں پر ہم صبر ہی کریں گے۔ اگر ظلم و زیادتی پر صبر کرنا اس کو بڑھاوا دینے کے ہم معنی ہوتا تو پیغمبروں کو کبھی اللہ کی طرف سے یہ تعلیم نہ دی جاتی جو مذکورہ آیت کے مطابق انہیں دی گئی۔
اصل یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ عام طور پر اس کے خلاف جوابی تدبیر کو تدبیر سمجھتے ہیں، مگر یہ صرف ایک جذباتی ردعمل ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلتا ہے۔ ایسے مواقع پر جوابی تدبیر صرف مسئلے کو بڑھاتی ہے۔ وہ فریق ثانی کے اندر ضد اور انتقام کی آگ بھڑکا کر مسئلے کو شدید تر بنا دیتی ہے۔ وہ کسی حال میں مسئلے کا حل نہیں۔
صبر کا مطلب عدم عمل نہیں، صبر کا مطلب زیادہ مؤثر عمل ہے۔ صبر اور بے صبری میں یہ فرق ہے کہ بے صبر آدمی پیش آمدہ مسئلے کو جذباتی تدبیر کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، اس کے مقابلے میں صبر والا آدمی حکیمانہ تدبیر کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بے صبری کا طریقہ ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور صبر کا طریقہ ہمیشہ کامیاب۔ اس معاملے کی ایک معلوم اور معروف مثال یہ ہے کہ ہر سال ہندو لوگوں کی طرف سے گن پتی کا جلوس نکلتا ہے۔
ابتدا میں مسلمان یہ کرتے تھے کہ گن پتی کا جلوس ان کی مسجد کے سامنے سے گزرتا تو وہ روک ٹوک کرتے، وہ جلوس کی روٹ بدلنے کی مانگ کرتے۔ اس کے نتیجے میں دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا اور خونی فساد کی نوبت آ جاتی۔ اب اللہ کا فضل ہے کہ الرسالے کی تعمیری مہم کے نتیجے میں اس معاملے میں مسلمان صبر و اعراض کی حکمت کو سمجھ گئے ہیں۔ چنانچہ اب بھی ہر سال پہلے کی طرح گن پتی کا جلوس نکلتا ہے۔
جلوس والے اب بھی وہی کرتے ہیں جو وہ پہلے کرتے تھے۔ مگر اب کئی سالوں سے گن پتی کے جلوس کے موقع پر فرقہ وارانہ فساد کا ہونا تقریباً بند ہو گیا ہے۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اب مسلمان گن پتی کے جلوس کے موقع پر صبر و اعراض کا فارمولا اختیار کرتے ہیں، جبکہ اس سے پہلے وہ بے صبری اور جذباتیت کا طریقہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 138۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.