سوال: میں بہار کے ایک میڈیکل کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا طالب علم ہوں۔ یہ ایک اقلیتی ادارہ ہے جس میں 50% سیٹ مسلمانوں کے لیے ریزرو ہے۔ یہ کالج اے آئی سی ٹی ای سے ریکگنائزڈ ہے، اور وقتی طور پر مگدھ یونیورسٹی سے اس کا الحاق بھی ہے۔ مگر یونیورسٹی لڑکوں کا امتحان وقت پر نہیں لیتی۔
مگر یونیورسٹی لڑکوں کا امتحان وقت پر نہیں لیتی۔ یونیورسٹی بار بار الزام عائد کرتی ہے کہ کالج ریگولر طریقے پر نہیں چلتا ہے، اس لیے اس کا کوئی کام وقت پر کرنا مناسب نہیں۔ جبکہ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی خود بدعنوانی کا شکار ہے۔ میں 2 سال سے فرسٹ ایئر میں ہوں، مگر ابھی تک امتحان ہونے کی کوئی امید نہیں۔
اس کے متعلق کئی بار گورنر اور وائس چانسلر سے بات ہو چکی ہے، پھر بھی کوئی مثبت جواب نہیں مل پایا۔ اس حال میں ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ براہِ کرم آپ کوئی مشورہ دیں۔ خالد علی خاں، بہار۔
جواب: میں ذاتی طور پر رعایتی ادارے قائم کرنے کے خلاف ہوں، اور رعایتی داخلے کے بھی خلاف ہوں۔ میرے نزدیک زندگی مقابلے کا نام ہے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ مقابلہ کرو یا ختم ہو جاؤ۔ Compete or perish.
میرا مشورہ ہے کہ آپ اب سے یہ فیصلہ کریں کہ آپ محنت کے ذریعے دنیا میں اپنا مقام بنائیں گے، نہ کہ رعایت کے ذریعے۔ شکایت ہمیشہ رعایت چاہنے والوں کو ہوتی ہے۔ جو لوگ محنت کا طریقہ اختیار کریں، انہیں کبھی کسی سے شکایت نہیں ہوتی۔ جو لوگ رعایتی ادارے کھولتے ہیں، ریزرویشن کی اہمیت پر تقریریں کرتے ہیں، وہ خود اپنے بچوں کو ایسی تعلیمی اداروں میں داخل کرتے ہیں جہاں سخت مقابلے کا ماحول ہوتا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا اصل مسئلہ کسی نہ کسی طرح ڈگری حاصل کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ زندگی میں ترقی کرنے کا ہے۔
زندگی میں اعلیٰ ترقی کبھی رعایت اور ریزرویشن کی بنیاد پر نہیں ہوتی، بلکہ اعلیٰ لیاقت کی بنیاد پر ہوتی ہے، اور اعلیٰ لیاقت محنت سے آتی ہے، نہ کہ رعایت سے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 137۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.