سوال: قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ کاذبوں کو ڈھیل نہیں دیتا، چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ "اور وہ کوئی بات گڑھ کر ہمارے اوپر لگاتا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑتے، پھر ہم اس کی رگِ دل کاٹ دیتے، پھر تم میں سے کوئی اس سے ہم کو روکنے والا نہ ہوتا"۔ الحاقہ 44-47۔ اس سورت میں اگر مرزا غلام احمد قادیانی صاحب جھوٹے تھے تو کیا وجہ ہے کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی گرفت نہیں کی؟ بہادر خاں بارہ مولا، جموں و کشمیر۔
جواب: یہ ایک مغالطہ ہے، نہ کہ استدلال۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں نہیں کہا گیا ہے کہ "جو لوگ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں"، بلکہ یہ ارشاد ہوا ہے کہ "اگر وہ بات گھڑتا"۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت کا تعلق صرف ایک شخص یعنی محمد ابن عبداللہ سے ہے۔ اس آیت میں کوئی عام حکم بیان نہیں ہوا ہے۔
اس کا تعلق متعین طور پر ذاتِ رسول سے ہے۔ آپ کے معاصرین آپ کے بارے میں اس قسم کا الزام لگاتے تھے، اس لیے ان کے جواب میں یہ آیت اتاری گئی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اقرار یا انکار سے آپ کے معاصرین کی جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونا تھا، اس لیے آپ کے بارے میں یہ سخت اعلان کیا گیا۔ جہاں تک جھوٹے مدعیانِ نبوت کا تعلق ہے، ان کے مخاطبین کے بارے میں اللہ کی یہ سنت نہیں۔
ان لوگوں کا فیصلہ آخرت میں ہوگا، نہ کہ دنیا میں۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 137۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.