سوال: میری ملاقات ایک جماعت کے لوگوں سے اکثر ہوتی رہتی ہے، وہ آپ پر نکتہ چینی کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آپ دعوت کی بات کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کو مشرف باسلام کیا ہے؟ الرسالہ کے خبر نامہ اسلامی مرکز میں تو ایسی خبریں موجود نہیں ہوتیں۔ اقبال احمد فیضی، بھلائی۔ جواب: سوال کرنے والے کے اندر اگر سنجیدگی ہو تو وہ اس سوال کا جواب خود ہی معلوم کر سکتا ہے۔
ہمارا مشن تقریباً 40 سال سے چل رہا ہے، اس مدت میں اللہ کے فضل سے ہم نے مختلف ملکوں میں لاکھوں انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا ہے۔ ان میں سے ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، فالحمد لله على ذلك، مگر میں اور میرے ساتھی یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں، اس لیے ہم اس کو خبرنامے میں نہیں چھاپتے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جس جماعت کے لوگ آپ سے اس قسم کے سوالات کرتے ہیں، وہ اپنے نظریے کے مطابق اس ملک کو دارالطاغوت سمجھتے رہے ہیں، اب وہ اس ملک کو دارالدعویٰ کہتے ہیں اور اپنے دعوے کے مطابق دعوتی کام میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دارالدعویٰ کا یہ تصور ان کو کہاں سے ملا؟
یقینی طور پر وہ انہیں راقم الحروف کی تحریروں سے ملا۔ ان کے اپنے جماعتی نظریے کے مطابق تو یہ ملک ان کے لیے صرف دارالطاغوت تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ان کے لیے صرف یہ ممکن تھا کہ وہ اس طاغوتی نظام سے لڑیں، پھر یا تو اسی راہ میں اپنی جان دے دیں یا اس کو اسلامی نظام میں تبدیل کر دیں۔ ان کے مسلمہ عقیدے کے مطابق سیاسی نظام کو بدلے بغیر دعوت کے کام کا انجام پانا ممکن ہی نہیں۔
راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے ان حضرات کو بتایا کہ جس ملک کو تم غلط طور پر دارالطاغوت سمجھتے ہو، وہ دراصل دارالدعویٰ ہے۔ یعنی یہاں آج بھی پرامن انداز میں دعوت کا عمل انجام دیا جا سکتا ہے۔ ان حضرات کے نظریے کے مطابق ہندوستان جیسے ملک میں ان کے لیے صرف دو ہی امکانی صورت تھیں: ایک یہ کہ مفروضہ طاغوتی نظام سے لڑ کر اپنے کو ہلاک کرنا، یا منافقانہ سمجھوتہ کر کے اس کے اندر زندگی گزارنا۔ راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے ان کو اس دو طرفہ مصیبت سے نجات دی۔
ایسی حالت میں یہ حضرات میرے خلاف جو بے بنیاد پروپیگنڈا کرتے ہیں، وہ بے حد سنگین ہے۔ اندیشہ ہے کہ ان کی یہ روش انہیں اس حدیث رسول کا مصداق بنا دے: "من لم یشکر الناس لم یشکر الله" ۔ احمد الترمذی، بحوالہ مشکات المصابیح جلد 2 صفحہ 911۔ کتاب سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 135۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.