سوال: میں الرسالے کا قاری ہوں، الرسالہ مارچ 1995 میں ایک مضمون چھپا تھا جس میں یہ درج تھا کہ بندے نے رمضان میں ایک مہینے تک ایک مہینے تک اللہ کے حکم کی تعمیل کی، تو اب اللہ نے اس کو قبول کرتے ہوئے اپنے انعام کے طور پر بندے کو یہ موقع دیا کہ وہ پابندیوں سے آزاد ہو کر جو چاہے کھائے اور جو چاہے پیے۔ صفحہ 18۔ اس عبادت پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حرام و حلال کی تمیز کیے بغیر جو چاہے کھاؤ جو چاہے پیو؛ میری سمجھ میں اس عبارت کو اس طرح ہونا چاہیے تھا: پابندیوں سے آزاد ہو کر اللہ کے دیے ہوئے مالِ حلال سے جو چاہے کھائے اور جو چاہے پیے۔ اگر عبارت اس طرح ہوتی تو لوگوں کو اعتراض کا موقع نہ ملتا۔
سید آصف علی، شارجہ۔ جواب: یہ معاملہ عبارت میں غلطی کا نہیں ہے، بلکہ یہ ان لوگوں کی سوچ کی غلطی کا معاملہ ہے جن لوگوں نے یہ اعتراض کیا۔ اگر کھلے ذہن کے ساتھ اس مضمون کو پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ خود اسی مضمون میں مذکورہ اعتراض کا جواب موجود ہے۔ آپ دوبارہ پورے مضمون کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ اس میں چند سطر پہلے یہ الفاظ چھپے ہوئے موجود ہیں: رمضان کا مہینہ کھانے پینے پر پابندی لگانے کا مہینہ ہے، اور عید الفطر کا دن ان پابندیوں سے آزاد ہونے کا دن ہے۔
ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پابندیوں سے آزادی سے مراد وہ پابندیاں ہیں جو روزے کے دنوں میں عائد کی گئی تھیں، نہ کہ مطلق آزادی۔ یہ اعتراض نہیں ہے بلکہ شوشہ ہے، اور شوشہ ہر عبارت میں نکالا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ قرآن میں بھی جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْءًا اتَّخَذَهَا هُزْوَىٰ. الجاثية 9۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 134۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.