Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-132)

Urdu · 5 min

سوال: خدا کی حقیقت، یعنی وجود، سب سے افضل مانی جاتی ہے، لیکن شیطان برائی کرنے کے لیے انسان کو اکساتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے۔ مگر خدا بے بس لگتا ہے؛ شیطان کیسے خدا کے برابر طاقتور ہے؟ بلراج اوبراہے، ریٹائرڈ جج، میرٹھ۔ جواب: خدا انسان کا خالق ہے؛ خدا بلاشبہ تمام طاقتوں کا مالک ہے۔

شیطان کو دنیا میں بظاہر انسان کے اوپر جو اختیار حاصل ہے، اس کا تعلق خدا کی طاقت سے نہیں ہے، بلکہ خدا کے تخلیقی نقشہ، یعنی کرییشن پلان، سے ہے۔ شیطان کو موجود دنیا میں جو اختیار حاصل ہے، وہ اس لیے ہے کہ خدا نے اپنی امتحانی مصلحت کی بنا پر وقتی طور پر اس کو یہ موقع دیا ہے۔ شیطان کا اختیار اس کی ذاتی صفت نہیں؛ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو خدا نے آزمائش، یعنی ٹیسٹ کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ یہاں انسان کو اس لیے بسایا گیا ہے کہ اس کو جانچ کر دیکھا جائے، اور یہ فیصلہ کیا جائے کہ کون انسان اپنے حسنِ عمل کی بنا پر اس قابل ہے کہ اس کو جنت کی ابدی دنیا میں بسایا جائے۔

اور جو لوگ اپنی بدعملی کی بنا پر نالائق ثابت ہوں، ان کو جنت سے محروم کر کے کائنات کے ابدی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے۔ موجودہ دنیا کا پورا نظام اسی آزمائش، اسی آزمائشی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ موجودہ دنیا کی صحیح توجیح صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ اس کو اسی روشنی میں دیکھا جائے، اور اس کے واقعات کی توجیح اسی بنیادی اصول کی روشنی میں کی جائے۔ مثلاً انسان کو موجودہ دنیا میں جو اختیار ملا ہوا ہے، وہ بھی اسی آزمائشی مصلحت کی بنا پر ہے۔

انسان کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز کی جو صلاحیت ہے، اس کا راز بھی یہی ہے۔ انہی میں سے ایک شیطان کا وجود بھی ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق شیطان خفیہ نوعیت کی ایک مستقل مخلوق ہے۔ شیطان یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے، وہ انسان کو اس طرح متاثر کرے کہ برائی اس کو خوبصورت دکھائی دے اور بھلائی اس کو بری صورت میں نظر آئے۔

مگر شیطان کو انسان کے اوپر صرف بہکانے کا اختیار حاصل ہے۔ شیطان کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ انسان کے ساتھ زبردستی کرے یا اس کو غلط راستے پر چلنے کے لیے مجبور کر سکے۔ موجودہ دنیا میں انسان کا معاملہ ویسا ہی ہے جیسے امتحان ہال میں کسی طالب علم کا معاملہ۔ طالب علم کو امتحان ہال میں مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے؛ وہ اپنی کامیابی پر جو چاہے لکھے اور جو چاہے نہ لکھے۔

مگر یہ آزادی صرف 3 گھنٹے کے لیے ہے۔ 3 گھنٹے کا وقت پورا ہوتے ہی اس کی کاپی واپس لے لی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کے تعلیمی مستقبل کا فیصلہ اس کی اسی کارگزاری پر کیا جاتا ہے جو اس نے 3 گھنٹے کے ملے ہوئے وقت میں انجام دی تھی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ انسان کا موجودہ دنیا میں ہے۔

کسی انسان کو عمر کا جو وقفہ ملا ہے، وہ گویا اس کے لیے 3 گھنٹے کا وقفہ ہے۔ اس وقفۂ عمل کے دوران اس کو موقع ہے کہ وہ یا تو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اپنا اعمال نامہ خراب کر لے، یا اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شیطان کے بہکاوے سے بچائے۔ وہ شیطان کو رد کر کے فرشتے کی آواز کو سنے اور سچائی کے راستے پر قائم ہو جائے۔ جو لوگ فرشتے کی آواز کو سنیں اور اس کی پیروی کریں، ان کے لیے خدا کا ابدی انعام ہے، اور جو لوگ شیطان کی آواز کو سنیں اور اس کی پیروی کریں، ان کے لیے خدا کی ابدی سزا۔

شیطان کے بارے میں مذکورہ سوال صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ موجودہ دنیا ہی کو واحد دنیا سمجھا جائے۔ مگر جب دنیا کے ساتھ آخرت کی دنیا کو ملا لیا جائے تو یہ سوال اپنے آپ حل ہو جاتا ہے۔ موجودہ دنیا کو آخرت کی دنیا سے ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے، اور آخرت کی دنیا اس کا بدلہ پانے کی جگہ۔ آخرت کی دنیا میں جو اعلیٰ انعام دیا جانے والا ہے، وہ بے حد قیمتی ہے۔

اس قیمتی انعام کے مستحق صرف وہ بلند حوصلہ افراد ہوں گے جو شیطان کی ترغیبات، یعنی ٹیمپٹیشنز، سے اپنے آپ کو بچائیں اور ہر ممکن قربانی دیتے ہوئے سچائی کے راستے پر قائم رہیں۔ جن کی موت اس حال میں آئے کہ انہوں نے شیطان کے اوپر مکمل غلبہ پا لیا تھا۔ جن کی موت اس حال میں آئے کہ انہوں نے شیطان کے اوپر مکمل غلبہ پا لیا تھا۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 132۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.