سوال: چند روز قبل میں اپنے ایک دوست سے سیاسی اقتدار کی حقیقت کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ گفتگو کے دوران میرے دوست نے کہا کہ موسیٰ کی دعوت پر فرعون نے کہا تھا کہ "یہ موسیٰ ہمیں اپنے اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں"، تو کیا فرعون کے اس قول سے سیاسی اقتدار کا نشانہ ہونا ثابت نہیں ہوتا؟ فرعون جو موسیٰ علیہ السلام کا مخاطب تھا، اس کے اس قول سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی تحریک سیاسی انقلاب کی تحریک تھی، جس سے فرعون اپنے لیے سیاسی خطرہ محسوس کر رہا تھا۔ اس بنا پر اس نے ایسا کہا: جاوید حسین وانی، اننت ناک کشمیر۔
جواب: فرعون کا قول "یُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِنْ أَرْضِكُمْ" الاعراف اور الشعراء میں آیا ہے۔ اس آیت سے یہ نظریہ نکالنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مشن ایک سیاسی مشن تھا، بلاشبہ ایک مجرمانہ جسارت کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ فرعون کے قول سے موسیٰ علیہ السلام کا مشن نکالنا ہے، جبکہ حضرت موسیٰ کا پیغمبرانہ مشن قولِ موسیٰ سے نکلے گا، نہ کہ قولِ فرعون سے۔ استدلال کا یہ طریقہ نہایت غیر منطقی ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے کشمیریوں کے ایک مخالف شخص کے قول سے کشمیریوں کا مقصد متعین کیا جائے۔ اپنے ذاتی معاملے میں کوئی بھی اس قسم کے غیر منطقی استدلال کو تسلیم نہیں کرے گا۔ پھر قرآن کے معاملے میں ایسا استدلال کیوں کر درست ہو سکتا ہے؟ دوسری بات یہ کہ اگر حضرت موسیٰ کا مقصد یہ تھا کہ فرعون کو تخت سے بے دخل کر کے مصر میں اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں، تو حضرت موسیٰ نے نعوذ باللہ خود اپنے مشن کے خلاف عمل کیا۔
کیونکہ جب فرعون اور اس کا لشکر مکمل طور پر تباہ ہو گیا، تو اس کے بعد حضرت موسیٰ کے لیے بہترین موقع تھا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ واپس آ کر مصر کے اقتدار پر قبضہ کر لیں۔ مگر اس کے برعکس حضرت موسیٰ نے یہ کیا کہ وہ مصر کو چھوڑ کر اپنی قوم کے ساتھ صحرائے سینا کے غیر آباد علاقے میں چلے گئے۔ صحرائے سینا کے غیر آباد علاقے میں چلے گئے۔ مذکورہ سیاسی تفسیر کو ماننے کی صورت میں حضرت موسیٰ کے اس عمل کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔
اس قسم کے واضح حقائق کے باوجود جو لوگ حضرت موسیٰ کے مشن کو سیاسی مشن بتائیں، وہ صرف اس قابل ہیں کہ ان کے ساتھ قرآن کے اس حکم پر عمل کیا جائے: "وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ"۔ کتاب: سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 127۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.