Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

Second question.

Urdu · 2 min

سوال: غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ علمائے کرام اور دانشورانِ اسلام اگر اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اسلام کا پیغام غیر مسلم حضرات تک حکمت کے ساتھ پہنچائیں، تو امید ہے کہ غیر مسلموں کی ایک کثیر تعداد اسلام کے بارے میں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھے گی اور قرآن پاک جیسی کتاب کو جلانے کے بجائے اسے سینے سے لگائے گی اور اس کا مطالعہ کرے گی، تو قبولیتِ اسلام کے لیے بھی تیار ہو جائے گی۔ مگر اس معاملے میں اس قدر کوتاہی برتی جا رہی ہے کہ جیسے یہ کرنے کا کوئی کام ہی نہیں۔ اس سلسلے میں کن لوگوں کو کن حکمتوں کے ساتھ یہ کام کرنا چاہیے؟

شکیل احمد، فارمسٹ، بھنڈارا۔ جواب: موجودہ زمانے کے مسلمان جو معمولی معمولی واقعات پر مشتعل ہو کر جلوس نکالتے ہیں اور جلاتے پھونکتے ہیں، وہ ایک جرم ہے، نہ کہ کوئی اسلامی خدمت۔ موجودہ مسلمانوں کی یہی منفی ذہنیت اسلام کی توصیف و اشاعت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا آغاز انسانی خیرخواہی سے شروع ہوتا ہے۔

جس طرح کوئی تاجر صرف اس وقت کامیاب تجارت کر سکتا ہے جبکہ وہ اپنے گاہکوں کا خیرخواہ ہو اور ان سے محبت اور رعایت کا تعلق قائم کرے، اسی طرح دعوتی عمل کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ داعی کے دل میں اپنے مدعو کے لیے خیرخواہی ہو۔ وہ سارے انسانوں سے محبت کرنے والا ہو، نہ کہ صرف اپنی قوم سے محبت کرنے والا۔ یہ حقیقت ہے کہ دعوت کا کام احترام کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان صرف احترامِ مسلم سے واقف ہیں، وہ احترامِ انسان سے واقف نہیں۔

یہی وہ اصل حکمتِ دین ہے جس کے زندہ ہونے پر دعوت کا عمل جاری ہو سکتا ہے۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 126۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.