سوال: اس وقت عالمِ اسلام جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں شاید سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ مختلف مکاتب کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف زہر افشانی اور تکفیر تک کرتے رہتے ہیں، جو اتحاد بین المسلمین میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ میں خود ایک گروہ سے وابستہ ہوں اور اس کی قدر کرتا ہوں، مگر دوسرے کچھ گروہ اس کی تکفیر کرتے ہیں۔ اس معاملے میں آپ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔ محمد جنید احمد حقانی، اسکاٹس، کشمیر۔
جواب: موجودہ قسم کی تکفیر کا طریقہ جو کچھ مسلمانوں میں رائج ہے، وہ یقیناً غلط ہے۔ یہ ایک بدعت ہے۔ صحابہ کرام کے دور میں اس قسم کی تکفیر کا رواج بالکل نہ تھا، اور جس طریقے کا رواج صحابہ کرام کے یہاں نہ پایا جائے، وہ بلاشبہ قابلِ رد ہے۔ ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کا طریقہ سلطنتِ عباسی کے دور میں شروع ہوا۔
یہ طریقہ چند سو سال تک جاری رہا۔ اس زمانے میں لوگوں کو اس سے دلچسپی نہ رہی کہ وہ غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کریں۔ اس کے بجائے وہ اس نامحمود عمل میں مشغول ہو گئے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام سے خارج قرار دیں۔ تکفیر کا یہ طریقہ چند سو سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ علماء نے اس سلسلے کو بند کرنے کے لیے متفقہ طور پر یہ اعلان کیا کہ ہم اہلِ قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کریں گے۔
لا نكفر أحداً من أهل القبلة حقیقت یہ ہے کہ تکفیر و تفسیق کے موجودہ ہنگامے کا کوئی بھی شرعی جواز نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ گویا ایک مذہبی گالی گلوچ ہے، نہ کہ کوئی مطلوب مذہبی عمل۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 126۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.