سوال: آپ کی تحریروں کے ذریعے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ دعوت و تبلیغ کا فریضہ کسی بھی اسلامی دور میں متروک نہیں رہا ہے۔ اور آپ کی تحریروں سے بعض لوگوں کے اس استنباط کی بھی تردید ہوتی ہے کہ دعوتی و دینی نقطۂ نظر سے امت مسلمہ پر طویل قرونِ مظلمہ کا دور گزرا ہے۔ میرے اس خط کا موضوع صوفیاء کرام کی تبلیغی و دعوتی کوشش ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ 1200 عیسوی کے بعد جبکہ صوفی تحریک کو عالمگیر فروغ حاصل ہوا، کیا اس دور میں بھی صوفیاء کرام نے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام نہیں دیا ہے؟
اس ضمن میں میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔ شکیل احمد فاروقی، مہاراشٹر۔ جواب: یہ بات صحیح ہے کہ حضرات صوفیاء نے براہِ راست طور پر دعوتی کام نہیں کیا۔ یعنی وہ ایسا نہیں کرتے تھے کہ غیر مسلموں کے پاس جا کر کہیں کہ "یا ایہا الناس قولوا لا إله إلا الله تفلحوا"۔
صوفیاء کا جو کارنامہ ہے اس کو معاونِ دعوت کارنامہ کہا جا سکتا ہے، نہ کہ براہِ راست دعوت و تبلیغ کا کارنامہ۔ اصل یہ ہے کہ دورِ اول کے بعد اسلام عالمی طور پر ایک معروف دین بن گیا تھا۔ مزید یہ کہ اپنی فطری سادگی کی بنا پر اس کے اندر ہر انسان کے لیے کشش تھی۔ اس طرح اسلام کے اندر اپنے آپ لوگوں کے دلوں میں نفوذ کرنے کی طاقت پیدا ہو گئی۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی اشاعت ایک عمل یعنی پروسیس کے روپ میں خود اپنے زور پر مسلسل ہونے لگی۔ دورِ اول کے بعد کی تاریخ میں اسلام اسی طرح اپنے آپ پھیلتا رہا۔ صوفیاء کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ منفی کام نہیں کیا جو موجودہ زمانے کے نادان مسلم لیڈروں نے کیا۔ ان لیڈروں نے قومی تحریکیں چلا کر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مصنوعی طور پر تناؤ کا ماحول پیدا کر دیا۔
اور اس طرح داعی اور مدعو کے درمیان نفرت پیدا کر کے اسلام کے اشاعتی عمل میں رکاوٹ ڈال دی۔ صوفیاء نے اپنے آپ کو اس قسم کے منفی عمل سے مکمل طور پر بچایا۔ انہوں نے اپنے مخصوص طریقے کے ذریعے مختلف فرقوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کی فضا قائم کی۔ اس طرح معتدل اور خوشگوار تعلقات کے درمیان جب مسلمانوں اور غیر مسلموں کا اختلاط بڑھا تو اپنے آپ اسلام بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔
صوفیاء کی براہِ راست تبلیغ کے بغیر لوگ جوک در جوک آ کر صوفیاء کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے لگے۔ مدنی دور میں صلح حدیبیہ کے بعد ہی یہ بات ثابت ہو چکی تھی کہ اسلام کی اشاعت کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں یا داعی اور مدعو کے درمیان کشیدگی نہ ہو۔ اور معتدل فضا میں اختلاط یعنی انٹریکشن ہونے لگے تو اسلام اپنے آپ پھیلنے لگے گا۔ صوفیاء نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی امکان کو استعمال کیا جو بدقسمتی سے کوئی دوسرا مسلم گروہ استعمال نہ کر سکا۔
کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 124۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.