سوال: آپ نے الرسالہ دسمبر 97 عیسوی میں فطری روش کے تحت لکھا ہے کہ عرب جاہلیت کا یہ واقعہ دراصل فطرتِ انسانی کا واقعہ ہے۔ اس وقت عرب کے لوگ اپنی فطرت پر قائم تھے۔ اس پر اعتراض یہ ہے کہ اگر عرب کے لوگ فطرت پر قائم ہوتے تو ان کے دور کو دورِ جاہلیت کے دور سے موسوم کیوں کیا جاتا؟ اور پیغمبر اسلام کو دینِ فطرت کی عظمت ان کے دلوں میں بٹھانے میں جنگوں کا سامنا کیوں کرنا پڑتا؟
معلوم ہوا کہ وہ لوگ غیر فطری زندگی گزارتے تھے؛ پیغمبر اسلام کی قربانیوں سے وہ فطری زندگی پر آئے۔ امیر حمزہ، جامعہ سراج العلوم، کرما۔ جواب: اسلام کے مقابلے میں جب جاہلیت کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو اردو زبان میں اس لفظ کا مستعمل مفہوم ہے، بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے بے خبری، یعنی ignorance۔ اس سے مراد ظہورِ اسلام سے پہلے کا دور ہے، جبکہ اہلِ عرب وحی اور نبوت سے بے خبر تھے۔
پیغمبر اسلام جن عربوں، یعنی بنو اسماعیل کے درمیان بھیجے گئے، ان کے بارے میں وہ بات خود احادیث سے ثابت ہے جس کا تذکرہ آپ نے الرسالے میں پڑھا۔ احادیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو خیارِ عرب میں مبعوث فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے اندر اسلام سے پہلے اعلیٰ انسانی صفات، یعنی human qualities، موجود تھیں۔ حدیث کی زبان میں: اسلام نے ان کے اندر فقہ، یعنی شعورِ ایمان کا اضافہ کیا۔
اس طرح جاہلیت کے بہترین لوگ اسلام میں بہترین لوگ بن گئے۔ خِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا عرب کے یہ لوگ جو اسلام میں آنے کے بعد بہترین امت بن گئے، وہ کسی پراسرار قسم کی قربانی کے ذریعے نہیں بنے، بلکہ دعوتِ جدوجہد کے ذریعے بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ اور قرآن کے مطالعے نے ان کے اندر حق کا شعور پیدا کیا، ان کے اندر ذہنی بیداری آئی۔ اس طرح انہوں نے معرفت، یعنی دریافت کے طور پر اللہ کے دین کو پایا۔
یہ مکمل طور پر فکری انقلاب، یعنی intellectual revolution کے ذریعے پیش آنے والا ایک واقعہ تھا، نہ کہ کسی پراسرار قربانی کے ذریعے پراسرار طور پر پیش آنے والا کوئی واقعہ۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 123۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.