سوال: غیر مسلم لوگ ہم سے اکثر یہ کہتے ہیں کہ تمہارے مذہب میں باپ کے مرنے کے بعد پوتا حقِ وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہے، یہ تو بڑا ظلم ہے۔ اس اعتراض کا کیا جواب ہے؟ عبدالسلام، ڈھاکہ، بہار۔ جواب: محجوب پوتے کی وراثت کا جو مسئلہ فقہ میں ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ محجوب پوتے کو وراثت ہی نہ دو۔
اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وراثتی نقشے میں درمیانی لنک ٹوٹ جانے کی وجہ سے ایسے پوتے کو ظاہری قانون کے اعتبار سے وراثت نہیں پہنچتی۔ ایسی حالت میں قانونی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے دوسرے طریقے سے اس کی تلافی کی جائے۔ تلافی کا یہ طریقہ وصیت کا اصول ہے۔ یعنی جہاں براہِ راست قانونی لنک کے ذریعے وراثت نہیں پہنچ رہی ہے، وہاں دادا اپنے حقِ وصیت کو استعمال کرتے ہوئے محجوب پوتے کو اس کا واقعی حصہ دے دے۔
چنانچہ اسلام کی پوری تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے، اور اب بھی ہو رہا ہے۔ کچھ خاندان ایسے ہو سکتے ہیں جہاں محجوب پوتے کو وراثت نہ دی گئی ہو، مگر اس کا سبب سرکشی ہے، نہ کہ قانون میں کوئی کمی۔ جن لوگوں کے مزاج میں سرکشی ہو، وہ محجوب پوتے کے علاوہ دوسرے مسلم معاملات میں بھی ایسا ہی کرتے ہیں، مثلاً بہنوں کو حق نہ دینا، جس کی مثالیں موجودہ مسلم معاشرے میں کثرت سے پائی جاتی ہیں، حالانکہ یہ شریعت سے انحراف کی بنا پر ہے، نہ کہ شریعت کی پیروی کی بنا پر۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 122۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.