Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-140)

Urdu · 2 min

سوال: احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے مسائل میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف ہے، مثلاً بعض روایتوں میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے اور بعض دوسری روایتوں میں ناف کے نیچے باندھنے کا۔ اس طرح کے اختلافات کی موجودگی میں "صلّوا كما رأيتموني أُصلّي" کے حکم پر کس طرح عمل کیا جائے گا؟ محمد امین گڈو، سری نگر، کشمیر۔ جواب: اس طرح کے اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ آدابِ نماز میں توسع کا اصول ہے، اس لیے توحد کے اصول پر کوئی ایک نمونہ قائم کرنے کی کوشش درست نہیں۔

امام شافعی نے بجا طور پر کہا ہے کہ "رأيي صواب يحتمل الخطأ، ورأي غير خطأ يحتمل الصواب" یعنی میری رائے درست ہے احتمالِ خطأ کے ساتھ، اور فریقِ ثانی کی رائے غلط ہے احتمالِ صواب کے ساتھ۔ ظاہر ہے کہ اس معاملے میں روایتوں کے اختلاف کو ایک ثابت کرنے کی ساری کوشش کے باوجود صرف احتمال ثابت ہوتا ہے، تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس اختلاف کو توسع پر محمول کیا جائے، اور میرے نزدیک یہی محدثین کا مسلک تھا۔ نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے خشوع کا ایک عمل ہے، نہ کہ محض کچھ ظواہر کی صحتِ ادائیگی کا عمل۔ ایسی حالت میں ظاہری آداب میں فرق ہونا ایک فطری بات ہے۔

نمازی کو چاہیے کہ اپنا سارا دھیان داخلی کیفیت پر دے، نہ کہ ظاہری ہیئت پر۔ چنانچہ ظاہری ہیئت کی صحتِ ادائیگی کے باوجود، ایک شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: "ارجع فصلِّ فإنك لم تصلِّ" "جاؤ، پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ " کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 140۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.