Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-108)

Urdu · 2 min

سوال: میں بہت مجبور ہوں، بات یہ ہے کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی، اور جہاں میری ممی شادی کروا رہی ہیں وہاں تو بالکل ہی نہیں کرنا چاہتی۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی لڑکا صرف دنیا کو دکھانے کے لیے مجھ سے شادی کر لے؟ مجھے صرف زندگی گزارنی ہے، زندگی جینے کی ذرا برابر بھی خواہش نہیں ہے، لیکن سماج میں اکیلے ایک لڑکی زندگی نہیں گزار سکتی اور کسی سے یہ بات کہہ نہیں سکتی، اور کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہے جس سے میں مشورہ لے سکوں۔ پلیز آپ میری مدد کریں، میں اپنے جواب کا بے صبری سے انتظار کروں گی۔

ایک مسلم خاتون۔ جواب: شادی کے سلسلے میں اکثر لڑکے یا لڑکیاں اپنی فرضی آرزوؤں کے تحت یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا میں ان کے لیے کوئی معیاری جوڑا موجود ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں نہ کوئی بیوی معیاری بیوی ہے اور نہ ہی کوئی شوہر معیاری شوہر۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر پسند والی شادیاں درمیان ہی میں ٹوٹ جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی معیاری جوڑے کے حصول کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ غیر معیاری جوڑے کے ساتھ نباہ کرنے کا نام ہے۔

عورت اور مرد دونوں کے لیے زندگی فطرت کا ایک قیمتی تحفہ ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کو چاہیے کہ وہ اس تحفے کو خوشی کے ساتھ قبول کرے، وہ جینے کی طرح جیے، اور جب اس کی موت آئے تو وہ اس احساس کے ساتھ مرے کہ اس نے زندگی کا فریضہ ادا کرنے میں اپنی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ غیر مطلوب جوڑے کے ساتھ زندگی گزارنا یا غیر مطلوب افراد کے ساتھ کام کرنا کوئی برائی نہیں، اس کے اندر ایک بے حد مثبت پہلو چھپا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ اسی کے دوران انسان کی ذہنی اور روحانی ترقی ہوتی ہے۔

ذہنی اور روحانی ترقی اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ انسان ناموافق صورتحال پر راضی ہو جائے، وہ فرق اور اختلاف کے باوجود مل جل کر رہنے کا طریقہ سیکھ لے۔ اپنی پسند کی دنیا تلاش کرنے کا نام عقلمندی نہیں، عقلمندی یہ ہے کہ آدمی پسند کے خلاف جینے کا راز دریافت کر لے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 108۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.