Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-107)

Urdu · 2 min

سوال: آپ الرسالے میں جہاں قرآن و حدیث کا حوالہ عربی میں پیش کرتے ہیں، تو اس کا ترجمہ بھی کر دیتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ایسا نہ ہونے کی وجہ سے عربی نہ جاننے والوں کو تشنگی رہ جاتی ہے۔ جیسے ماہ اکتوبر 2000 کے رسالے کے صفحہ 26 میں سطر 15 تا 16 دیکھیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ براہِ کرم جہاں بھی قرآن و حدیث کا حوالہ عربی میں دیں، تو عربی کا ترجمہ اردو میں ضرور لکھیں۔ امان اللہ سیوان۔

جواب: یہ شکایت درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ الرسالہ محض عام قسم کا ایک ماہنامہ نہیں، وہ مکمل طور پر ایک مشن ہے۔ اس کا مقصد پڑھنے والے کو صاحبِ مشن بنانا ہے، نہ کہ اس کو وقتی قسم کی ایک ذہنی تفریح فراہم کرنا۔ آپ کو چاہیے کہ الرسالے کو آپ اپنے لیے رابطے کا ذریعہ بنائیں۔

الرسالے کی باتوں پر لوگوں سے مذاکرہ کریں۔ الرسالے کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس طرح یہ ہونا چاہیے کہ اگر قاری کو اس کا کوئی عربی لفظ یا جملہ سمجھ میں نہ آئے، تو اس کو سمجھنے کے لیے وہ اپنے قریبی عالم سے رابطہ قائم کرے۔ اور اگر کسی قاری کو انگریزی کا کوئی لفظ یا جملہ مشکل ہو، تو وہ اس کو سمجھنے کے لیے اپنے قریب، اپنے قریب کے کسی انگریزی داں سے ملے۔

الرسالے کا حقیقی قاری وہی ہے جس کی زندگی میں الرسالہ اس طرح شامل ہو جائے کہ وہ اس کے لیے لوگوں سے ربط کا ذریعہ بن جائے۔ وہ اس کے لیے لوگوں سے تعلقات کا مرکز و محور بن گیا ہو۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو الرسالے کے ہر قاری کو کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، جن لوگوں کے پاس وقت ہے اور اسباب موجود ہیں، تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے علم کو بڑھائیں۔

وہ اس بات کی کوشش کریں کہ جو چیز ان کو آج معلوم نہیں ہے، کل کے دن وہ انہیں معلوم ہو جائے۔ کتاب: سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 107۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.