سوال: قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر جنت میں داخل کیا، پھر جنت سے نکال دیا اور زمین پر چھوڑ دیا، اور اس کے بعد دنیا بننی شروع ہوئی۔ چونکہ ساری کائنات کے لوگ اسی جوڑے، یعنی حضرت آدم اور حضرت حوا کے بعد دنیا میں آئے، اور پہلا جوڑا یہی تھا، میرا ذہن یہ سوال کرتا ہے کہ اگر ہم آج کی دنیا میں دیکھیں تو مجھے اپنی زبان، یعنی لانگویج، اپنے ماں باپ سے ہی ملی ہے، تو کیا وجہ ہے کہ اگر ہم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد، یعنی آدم کی اولاد ہیں، تو ہماری زبان ایک کیوں نہیں ہے؟ یہ اتنی زبانیں کہاں سے پیدا ہو گئیں؟ ساری دنیا میں ایک زبان ہونی چاہیے تھی جس کو سب سمجھ سکتے اور بول بھی سکتے، یعنی حضرت آدم کی زبان۔
نذیر احمد صوفی، سری نگر۔ جواب: یہ ایک کنفیوژن کی بات ہے، نہ کہ حقیقی معنی میں کوئی سوال۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ضروری سوال اور غیر ضروری سوال میں فرق کرے، ورنہ وہ ساری عمر ذہنی الجھنوں میں مبتلا رہے گا اور اس کے اندر صحت مند فکر کا ارتقا نہ ہو سکے گا۔ جہاں تک اصل سوال کا تعلق ہے، اس کو عام تجربے کے تحت سمجھا جا سکتا ہے: ایک خاندان میں 4 لڑکے ہیں، تلاشِ معاش کے تحت وہ 4 ملکوں میں چلے جاتے ہیں اور وہیں بس جاتے ہیں۔
اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ چاروں کی زبانیں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گی۔ تقریباً اسی طرح کا کچھ معاملہ حضرت آدم کی اولاد کے ساتھ پیش آیا۔ مہاجرت کے ذریعے لوگوں کی زبانیں بدلتی رہیں، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بہت سی زبانیں وجود میں آ گئیں۔ اس موضوع پر آپ کو وہ کتابیں پڑھنی چاہییں جو زبانوں کی تاریخ پر لکھی گئی ہیں۔
کتاب: "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 106۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.