← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
(Page-105)
Urdu · 3 min
سوال: پہلے میں ایک گروہ سے وابستہ ہوا، اور ان لوگوں کے ساتھ رہ کر میں نے چند مصنفوں کی کتابیں پڑھیں، مثلاً سید قطب، سید احمد شہید وغیرہ۔ ان میں زیادہ تر "جہاد بالسیف" کا ذکر تھا۔ آخر کار میں بارہویں کا امتحان دیے بغیر مجاہدین کے ساتھ چل پڑا، اور میں تقریباً 4 سال ان سے وابستہ رہا۔ پھر میں نے گھر والوں کو بھی چھوڑ دیا۔
گھر والوں کو بہت تکلیف ہوئی۔ ہمارے گھر کی مالی اور تعلیمی سرگرمیوں پر برا اثر پڑا۔ 1999 میں میں گرفتار ہوا اور اللہ پاک کی مرضی سے میری جان بچ گئی۔ اس کے بعد مجھے پولیس نے پی ایس اے، یعنی پبلک سیفٹی ایکٹ کے مطابق، نظر بند رکھا۔
جیل خانے میں میری ملاقات ایک معروف شخصیت سے ہوئی، اس نے مجھے ایک کتاب یعنی "اسلام: ایک تعارف" دی، وہ آپ کی ہی لکھی ہوئی تھی۔ پھر میں نے آپ کی 50-60 کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد میرا ذہن بدل گیا۔ میں نے پھر جیل میں ایگزامینیشن فارم بھر دیا، اور باقاعدہ طریقے سے میرا ٹی ڈی سی کا امتحان کنڈکٹ ہوا۔
اب میں دسمبر 2000 یعنی 9 رمضان المبارک کو رہا یعنی ریلیز ہوا۔ اب میری خواہش ہے کہ اسلام پر زندگی کو چلاؤں اور پڑھائی بھی کروں، لیکن گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں، اور اس وقت میری عمر 21 سال کی ہے، یہ میرے کمانے کا بھی ٹائم ہے۔ مولانا صاحب، آپ سے گزارش ہے کہ آپ آگے میری رہنمائی فرمائیں۔ ایک مسلم نوجوان، کشمیر۔
جواب: یہ صرف ایک مسلم نوجوان کی کہانی نہیں، بلکہ وہ موجودہ زمانے کے لاکھوں مسلمانوں کی کہانی ہے۔ موجودہ زمانے میں جہاد کے نام پر مختلف ملکوں میں جو انتہا پسندانہ تحریکیں چلائی گئیں، انہوں نے بے شمار مسلم خاندانوں کو تباہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں نہ اسلام کو کچھ ملا اور نہ مسلمانوں کو۔ اس قسم کی تحریکیں بلاشبہ اسلامی تحریکیں نہیں، اور نہ اس قسم کی عسکری سرگرمیاں اسلامی جہاد ہیں۔
یہ سب ایک نادانی کا ردعمل تھا جو اسلام کے نام پر کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی تحریک کو اس کے نتیجے کے لحاظ سے دیکھنا چاہیے۔ جو تحریک لوگوں میں نفرت اور تشدد کو بھڑکائے، وہ کبھی اسلامی تحریک نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جو عسکری سرگرمی لوگوں کی تباہی میں اضافہ کرے، وہ کبھی اسلامی جہاد نہیں ہو سکتا۔
جو ناپختہ نوجوان اس قسم کی تحریکوں کا شکار ہوتے ہیں، وہ شاید اپنی کم فہمی کی بنا پر قابلِ معافی قرار پائیں، مگر جو لوگ ان تحریکوں کی لیڈری کرتے ہیں، وہ بلاشبہ ایک سنگین جرم کر رہے ہیں جو کسی طرح قابلِ معافی نہیں۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 105۔