Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-109)

Urdu · 6 min

سوال: بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء نہیں تسلیم کرتے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ براہِ کرم واضح فرمائیں۔ سید احسن الدین مراد آباد۔ جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام انسانوں، بشمول انبیاء علیہم السلام، پر افضل و اعظم ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار سرے سے ممکن ہی نہیں۔

صاحبِ ایمان تو درکنار، غیر مسلم بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریز مؤرخ ٹامس کارلائل، وفات 1881، نے پیغمبرِ اسلام کو تمام پیغمبروں کا ہیرو بتایا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے ایک اسکالر ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے آپ کو تمام انسانوں میں سب سے بڑا انسان قرار دیا ہے، وغیرہ۔ پیغمبرِ اسلام کا افضل ہونا بجائے خود ایک مسلم واقعہ ہے۔

یہاں اصل سوال خود اس واقعے کا نہیں بلکہ اس کی تعبیر کا ہے۔ یعنی اس حقیقت کی منصوص تعبیر کیا ہے، اور اس کے اظہار کا منصوص طریقہ کیا ہے؟ مثال کے طور پر ایک تسلیم شدہ واقعہ ہے کہ ہر مومن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی گہرا قلبی تعلق ہونا چاہیے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، اس قلبی کیفیت کی منصوص تعبیر محبتِ رسول ہے، عشقِ رسول اس کی منصوص تعبیر نہیں۔

تعبیر کا یہی فرق مذکورہ مسئلے میں بھی پایا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ افضل الانبیاء کی تعبیر قرآن یا حدیث میں اختیار نہیں کی گئی۔ مثلاً قرآن میں "محمد رسول اللہ و خاتم النبیین" تو ہے، مگر قرآن میں کہیں بھی "محمد افضل الانبیاء" جیسی کوئی آیت نہیں۔ اسی طرح حدیث میں "انا الماحی" تو ہے، مگر حدیث میں کہیں بھی "انا افضل الانبیاء" جیسا کوئی کلمہ نہیں۔

تعبیر کا یہ فرق بے حد اہم حکمت پر مبنی ہے۔ یہ حکمت کیا ہے؟ وہ ایک حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ مدینے کے ایک مسلمان اور مدینے کے ایک یہودی کے درمیان تکرار ہوئی۔

یہودی نے قسم کھا کر کہا کہ اس خدا کی قسم جس نے محمد—جس نے موسیٰ کو تمام دنیا والوں پر فضیلت دی۔ یہ سن کر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے چہرے پر طمانچہ مارا اور کہا کہ اے خبیث! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر بھی؟ اس کے بعد یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مسلمان کے خلاف شکایت کی۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تفضلونی على الأنبياء تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 304۔ یعنی "مجھ کو دوسرے نبیوں پر فضیلت نہ دو"۔ اس مفہوم کی اور بھی کئی روایتیں ہیں۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تفضلوا بين الأنبياء صفحہ 304۔

یعنی "نبیوں کے درمیان ایک دوسرے کو افضل نہ بتاؤ"۔ مذکورہ روایت بتاتی ہے کہ افضل الانبیاء کی تعبیر شریعت میں کیوں اختیار نہیں کی گئی۔ مسلمان اور یہودی کے مذکورہ واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ افضل الانبیاء کی تعبیر بطور واقعہ درست ہونے کے باوجود لوگوں کے اندر فخر و ناز کی نفسیات پیدا کرتی ہے۔ ہر ایک اپنے فخر کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غیر ضروری قسم کے نزاعات ابھرتے ہیں۔ ایک گروہ دوسرے گروہ پر اپنی برتری ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ جبکہ زیادہ صحیح اور مفید بات یہ ہے کہ خدا کا اصل دین لوگوں کے درمیان زیرِ بحث آئے۔ داعی اور مدعو کے درمیان دعوت کے موضوع پر ڈائیلاگ ہو، نہ کہ دونوں ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرنے میں مصروف ہو جائیں۔

اس معاملے میں قرآن و حدیث سے جو منصوص تعبیر ملتی ہے، اس کا فائدہ یہی ہے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو "خاتم النبیین"—خاتم النبیین—سورہ الاحزاب، آیت 40 کہا گیا ہے۔ یہ تعبیر اہلِ ایمان کے اندر ذمہ داری کا جذبہ ابھارتی ہے۔ اس سے یہ احساس بیدار ہوتا ہے کہ پیغمبر کے بعد اب پیغمبر کے ماننے والوں کو یہ کام کرنا ہے کہ آپ کے لائے ہوئے دین کی ہر زمانہ اور ہر نسل میں اشاعت کرتے رہیں۔

وہ ختمِ نبوت کے بعد پیغامِ نبوت کا تسلسل دنیا میں جاری رکھیں۔ یہ تعبیر بتاتی ہے کہ ختمِ نبوت کے بعد آپ کی امت مسؤولیت کے اعتبار سے مقامِ نبوت پر ہے۔ پہلی تعبیر اگر فخر کا احساس پیدا کرتی ہے تو دوسری تعبیر ذمہ داری کا احساس ابھارتی ہے۔ اسی طرح حدیث کی یہ تعبیر کہ انا الماحي الذي يمحو به الله الكفر البخاری، کتاب المناقب۔

یعنی "میں مٹانے والا ہوں، اللہ میرے ذریعے سے کفر کو مٹائے گا"۔ اس تعبیر سے دوبارہ ذمہ داری کا گہرا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس میں اہلِ ایمان کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ہر دور میں جو باطل نظریہ ابھرے، ہر دور میں دینِ حق کے خلاف جو شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں، ان کے مقابلے میں وہ بھرپور طور پر کھڑے ہوں۔ اور ہر فکری اور نظریاتی محاذ پر اٹھنے والے طوفانوں کو پیچھے دھکیل دیں۔

یہ وہی فکری جہاد ہے جس کو قرآن میں "جہاد کبیر" کہا گیا ہے۔ الفرقان، 52۔ تعبیر کی اہمیت نفسیاتی اعتبار سے بے حد اہم ہے۔ مثلاً پیغمبر کے ساتھ قلبی تعلق کے بارے میں عشقِ رسول کی غیر منصوص تعبیر خود عقیدگی کا مزاج پیدا کرتی ہے۔

اس کے مقابلے میں محبتِ رسول کی منصوص تعبیر اطاعتِ رسول کا جذبہ ابھارتی ہے۔ اسی طرح افضل الانبیاء کی غیر منصوص تعبیر فخر کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں قرآن و حدیث کی مذکورہ منصوص تعبیر دعوت اور عمل کا جذبہ ابھارتی ہے۔ کتاب، سوال و جواب، جلد 1، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 109۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.