سوال: میرا کام ایسا ہے کہ مجھ کو زیادہ تر ہندوؤں کے درمیان رہنا پڑتا ہے، ہندو لوگوں سے اکثر باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے پایا ہے کہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے دو سب سے بڑی شکایتیں ہیں: ایک یہ کہ مسلم حکمرانوں، مثلاً اورنگزیب نے ہندوؤں کے اوپر ظلم کیا، دوسری شکایت یہ ہے کہ مسلم لیڈروں نے ملک کا بٹوارا کرایا۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ تو پہلے کی باتیں ہیں، آج کا ہندوستانی مسلمان تو ہندوؤں سے پوری طرح میل ملاپ کر کے رہنا چاہتا ہے۔ مگر وہ لوگ میرے اس جواب پر مطمئن نہیں ہوتے۔
ایسی حالت میں رہنمائی فرمائیں کہ ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ اقرأ الرسالة جواب: اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ہم تو مسلمانوں کی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، اورنگزیب اور مسٹر جناح کے زمانے میں تو ہم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، پھر ہمارے اوپر ان کے کیے کی ذمہ داری کیوں؟ حقیقت یہ ہے کہ قومی عمل ایک مشترک عمل ہوتا ہے۔ قوم کے کچھ لوگ ایک عمل کریں اور قوم کے دوسرے افراد خاموش رہیں، تو پوری قوم اس عمل میں شریک سمجھی جائے گی۔
اس سے مستثنیٰ صرف وہ افراد ہیں جو اعلان کے ساتھ اس عمل سے اپنے آپ کو ڈس اون کریں، یعنی اس سے اپنی بے تعلقی اور علیحدگی کا اعلان کر دیں۔ ہندوستانی مسلمان اور ہندوؤں کے درمیان معتدل تعلقات صرف اس وقت قائم ہو سکتے ہیں جبکہ وہ اعلان کے ساتھ مغل حکمرانوں یا تقسیم ہند کے لیڈروں سے اپنے آپ کو ڈس اون کریں۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم تو اس وقت موجود ہی نہ تھے۔ قرآن میں رسول اللہ کے ہم عصر یہودیوں کو پچھلے نبیوں کے قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا، سورہ النساء آیت 155، حالانکہ یہ لوگ یہودیوں کی بعد کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔
مگر چونکہ وہ اپنے پچھلے اکابر کے فعل سے اپنے آپ کو ڈس اون نہیں کرتے تھے، اس لیے بعد کے یہودیوں کو بھی پچھلے یہودیوں کے ساتھ بریکٹ کر دیا گیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان اپنے سابق حکمرانوں یا اپنے سابق لیڈروں کو ڈس اون کیوں نہیں کرتے؟ اس پر غور کیجئے تو ایک بے حد سنگین حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ مسلمان اسلام کی فکری عظمت پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، وہ بعد کو بننے والی مسلم تاریخ کی عظمت پر کھڑے ہوئے ہیں۔
وہ اللہ کی عظمت کے بجائے اپنے سیاسی اکابر کی عظمت میں جی رہے ہیں۔ ایسی حالت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے سیاسی اکابر کو ڈس اون کیا تو وہ اچانک بے زمین ہو جائیں گے۔ اس کے بعد عظمت کی کوئی اور زمین نہ ہوگی جس کے اندر وہ پرفخر طور پر کھڑے ہو سکیں۔ مزید یہ کہ اللہ کی دریافت آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتی ہے، جبکہ پرعظمت تاریخ سے اس کو فخر کی غذا ملتی ہے۔
موجودہ مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر تواضع میں کوئی لذت نہیں پاتے۔ اس کے برعکس فخر اور ناز میں جینا ان کو بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ مومن وہ ہے جو تواضع کی نفسیات میں جیے، نہ کہ فخر و ناز کی نفسیات میں۔ کتاب: سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 103۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.