سوال: سورہ الاعراف میں یہود کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: «وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ». سورہ الاعراف، آیت 167۔ اس آیت کی تشریح کیا ہے؟ براہِ کرم جواب تحریر فرمائیں۔
سید حلیم یمبع، سعودی عرب۔ جواب: اس آیت کی مفصل تشریح تذکیر القرآن، جلد اول، 418 تا 419 میں ملاحظہ فرمائیں۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت سے مراد استمراری عذاب نہیں ہے؛ خود قرآن کے مطابق ان پر حسنات الاعراف آیت 168 کے وقفے آتے رہیں گے، اور یہود کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس آیت کا تعلق مسلمانوں سے ہے؛ وہ یہود کے لیے تهدید ہے، اور مسلمانوں کے لیے تنبیہ۔
اللہ کا یہ قانون صرف یہود کے لیے نہیں تھا؛ وہ بعد کے اس گروہ کے لیے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ وہ غیر مسلم قوموں کی چیرہ دستی کا شکار ہو رہے ہوں، اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہو گئی ہو، تو ان کو خدا کی طرف سے لوٹنا چاہیے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الہی کی اسی زد میں آ گئے ہیں جس میں یہود آئے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 99۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.