Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-96)

Urdu · 3 min

سوال: میں 1991 سے الرسالے کا مستقل قاری ہوں، اور رسالے کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو ایک مخصوص خول سے نکال کر ایک وسیع النظر انسان بناتا ہے۔ الرسالہ پڑھنے کی وجہ سے میں اب ہر مکتبِ فکر کو پڑھنے لگا ہوں۔ میرے اندر جو ذہنی بزدلی تھی وہ الرسالے کے پڑھنے سے دور ہو گئی۔ ابھی کچھ دن ہوئے میں مرزائیت کے متعلق غلام احمد پرویز کی کتاب پڑھ رہا تھا، تو ایک دوست نے کہا کہ غلام احمد پرویز کو تو علماء نے کافر بتایا ہے، پھر تم کیوں اس کی کتاب پڑھتے ہو؟

اس معاملے کی وضاحت فرمائیں، ایک قاری الرسالہ۔ جواب: جہاں تک کتاب کا تعلق ہے، میرے نزدیک ہر کتاب کو پڑھنا چاہیے، البتہ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی عقل کو اتنا بیدار رکھے کہ وہ صحیح اور غلط میں فرق کر سکے۔ تکفیر کا موجودہ طریقہ بعد کے زمانے کی ایک ایجاد ہے، وہ اسلام کے مطابق نہیں۔ مصر کے ایک عالم خالد العنبری کی کتاب چھپی ہے جس کا نام یہ ہے: "هزيمة الفكر التكفيري"۔

اس کے مصنف نے موجودہ طرزِ تکفیر کو غیر صحیح بتایا ہے۔ اس کتاب کی رد میں سعودی عرب کے ایک عالم الشیخ صالح بن فوزان کا ایک مضمون "ریاض کے عربی مجلة الدعوة" 4 ربیع الاول 1421 ہجری، 6 جولائی 2000 میں چھپا ہے۔ شیخ موصوف نے تکفیر کے طریقے کو درست قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے قرآن و حدیث سے دو حوالے نقل کیے ہیں: ایک، منافقینِ مدینے کے بارے میں قرآن کا ارشاد کہ "قد كفرتم بعد إيمانكم" سورۃ توبہ آیت 66۔

اسی طرح حدیث سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ "بين العبد وبين الكفر ترك الصلاة"۔ شیخ مذکور کا یہ استدلال درست نہیں؛ انہوں نے دو چیزوں میں فرق نہیں کیا، اصل یہ ہے کہ مذکورہ آیت یا حدیث عمومی اظہارِ ناراضگی کی مثال ہے، نہ کہ شخصی تکفیر کی مثال۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن میں مدینے کے جن منافقین کے بارے میں "کفر" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے، مگر اس آیت کے نزول کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افراد کا نام لے کر مشخص انداز میں کبھی ان کی تکفیر نہیں کی۔ اسی طرح حدیث میں ترکِ صلاة کے بارے میں "کفر" کا لفظ آیا ہے، مگر اس سے مراد مشخص تکفیر نہیں۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانے میں بہت سے مسلمان ایسے رہے ہیں، اور آج بھی جو نماز کے طارق ہیں، مگر علماء اسلام نے کبھی شخصاً شخصاً نام لے کر ان کی تکفیر نہیں کی۔ کتاب: "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 96۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.