سوال: تبلیغی جماعت کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ وہ ہر جگہ مقبول ہو رہی ہے، اس کی اس مقبولیت کا راز کیا ہے؟ عمر فاروق، نیویارک، بذریعہ ٹیلی فون۔ جواب: تبلیغی جماعت کے ذریعے امت کو کچھ فائدے مل رہے ہیں، مثلاً مسجد کے نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہونا۔
اس لحاظ سے وہ قابلِ قدر ہے۔ مگر تبلیغی جماعت کا طریقہ ایک اجتہادی طریقہ ہے، وہ کوئی منصوص طریقہ نہیں۔ ان کے جلسوں میں قرآن کے بجائے فضائل کی روایتیں سنائی جاتی ہیں، جو اکثر سند کے اعتبار سے غیر معتبر ہوتی ہیں۔ اسی طرح ان کے یہاں کرامت کے قصوں اور کہانیوں کی کثرت ہے، جو بے بنیاد بھی ہوتے ہیں اور غیر مسنون بھی۔
جہاں تک اس کام کی مقبولیت کا معاملہ ہے، تو اس کی مقبولیت کا راز زیادہ تر یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے سارے معاملے کو ایک "سمپل روٹین" میں ڈھال دیا ہے۔ They have reduced Islam to a simple routine. کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 92۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.