Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-90)

Urdu · 6 min

سوال: باتیں دو طرح کی ہوتی ہیں، یا مسائلِ نظریات دو طرح کے ہوتے ہیں؟ ایک منصوصات، دوسرا مستنبطات۔ اول الذکر میں کسی کو اختلاف کی قطعاً گنجائش نہیں ہے، البتہ مستنبطات یا مستخرجات میں دائرۂ اختلاف وسیع تر ہوتا ہے۔ سلفِ صالحین، ائمہِ مجتہدین، محدثین، تقریباً سبھوں نے اپنے فکر پر دلائل کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اپنے مخالف کے بارے میں اس طرح اعلان کیا ہے: نحنُ على الصوابِ مع احتمال الخطأ، أنتمُ على الخطأِ مع احتمال الصواب.

اور یہ کہ غیر منصوصات پر اصرار کی ایک جانب غیر شرعی چیز ہونے پر فقہائے امت کا تقریباً اتفاق ہے۔ ہر صاحبِ فکر جسے اللہ نے فکرِ مستقل سے نوازا ہو، اسے یہ اعلان کر دینا چاہیے کہ أنا على الصوابِ مع احتمال الخطأ، أنتَ على الخطأِ مع احتمال الصواب. اختیارِ حق اور احقاق کے لیے راستہ صاف ہے۔ سید احمد اللہ بختیاری، حیدرآباد۔

جواب: راقم الحروف کی تحریریں زیادہ تر منصوصات سے متعلق ہوتی ہیں، نہ کہ مستنبطات سے متعلق۔ ایسی حالت میں ان تحریروں پر مذکورہ قسم کے احتمال کا اصول چسپاں نہیں ہوتا۔ مثلاً میں یہ کہتا ہوں: مسلمان کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلموں کی حیثیت مدعو کی۔ یہ یقینی طور پر نصی کا مسئلہ ہے، نہ کہ استنباط کا مسئلہ۔

موجودہ زمانے میں کچھ مسلم رہنما اور مسلم اخبارات ملی مسائل کو لے کر بار بار ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں راقم الحروف کا کہنا یہ ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ اس نسبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے معاملات میں غیر مسلموں سے نزاع کو avoid کریں، تاکہ وہ معتدل ماحول قائم ہو جس میں دعوت کا پرامن عمل جاری رہ سکے۔ یہ نظریہ صراحتاً نصِ قرآنی پر مبنی ہے۔

مثلاً: فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُوا إِلَى رَبِّكَ سورہ الحج آیت 67۔ ایسی حالت میں اس مسئلے کو بیان کرتے ہوئے مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ یہی ہمیشہ خود علمائے امت کا موقف رہا ہے۔ وہ مذکورہ قسم کے جملے صرف مستنبطات کے بیان میں لکھتے ہیں، نہ کہ منصوصات کے بیان میں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام میں نماز پانچ وقت کی نہیں ہے، بلکہ صرف دو وقت یا تین وقت کی ہے۔

اس کے مقابلے میں جب علماء یا صالحین اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں، تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے مضمون کے آخر میں لکھیں کہ نحنُ على الصوابِ مع احتمال الخطأ، وأنتمُ على الخطأِ مع احتمال الصواب. البتہ کچھ دوسرے قسم کے مسائل جن کی بنیاد نص پر نہیں ہے، بلکہ استنباط پر ہے، ان کے بیان میں علماء مذکورہ قسم کا اعتراف درج کرتے ہیں۔ مثلاً علماء کا ایک طبقہ اگر اصرار کرے کہ جراب پر مسح کی اجازت صرف اس جراب کے لیے ہے جو قدیم طریقے کے مطابق چمڑے سے بنایا گیا ہو۔ اب دوسرا عالم اگر یہ کہے کہ صنعتی ریشوں سے بنے ہوئے جدید طرز کے موزوں کا بھی وہی حکم ہے اور ان پر بھی مسح جائز ہے، تو اپنے اس بیان کے ساتھ بطور احتیاط وہ مذکورہ قسم کے احتمالی الفاظ لکھ سکتا ہے، کیونکہ یہ دوسری قسم کا بیان استنباط پر مبنی ہے، نہ کہ براہِ راست نص پر۔

میں ایسے موقع پر غالباً جیسا کوئی لفظ استعمال کرتا ہوں۔ میری تحریروں کا دوسرا جز وہ ہے جس کا تعلق جدید حالات کی نسبت سے تدبیرِ کار پر ہے۔ مثلاً پرتشدد جدوجہد کے مقابلے میں پرامن جدوجہد، جلسہ جلوس کے طریقے کے بجائے گفت و شنید کا طریقہ، اختلافی معاملات میں محاذ آرائی کے بجائے حکیمانہ انداز، خارجی اقدام سے پہلے داخلی تیاری، وغیرہ۔ یہ دوسری باتیں بھی اپنی اصل کے اعتبار سے منصوصات پر مبنی ہیں۔

البتہ چونکہ ان کا تعلق خارجی حالات سے ہے اور خارجی حالات بدلتے رہتے ہیں، اس لیے ان باتوں پر انطباق یعنی application کے اعتبار سے ایک سے زیادہ رائیں ہو سکتی ہیں۔ اس پہلو سے ایک شخص یہ حقِ اختلاف رکھتا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعے یہ بتائے کہ حالات کی نوعیت اس کے نزدیک اس سے مختلف ہے جو میں نے اپنے مطالعے سے سمجھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں خود سنتِ رسول میں مختلف نمونے پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مشرکین سے جنگ کی، انہی مشرکین سے حدیبیہ کے موقع پر آپ نے صلح کر لی۔

اسی طرح آپ نے احد کے موقع پر مدینے سے تین میل باہر جا کر مخالفین سے مقابلہ کیا، اور احزاب کے موقع پر انہی مخالفین سے مدینے کے اندر رہ کر دفاع کیا، وغیرہ۔ اس لیے شریعت کا یہ متفقہ اصول ہے کہ تتغيّر الأحكام بتغيّر الزمان والمكان تدبیرِ کار سے متعلق میری جو تحریریں ہیں، وہ اسی آخری نوعیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان تحریروں میں مسلمانوں کو جو مشورہ دیا جاتا ہے، اس کے رد و قبول کی بنیاد یہ ہے کہ حالات کا بے لاگ مطالعہ کر کے ان کی حقیقی نوعیت کو سمجھا جائے، اور پھر یہ دیکھا جائے کہ قرآن و سنت کے کون سے احکام ان حالات پر منطبق ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں اگر کسی کو مجھ سے اختلاف ہو تو اس کو الزام تراشی اور بہتان ترازی کے بجائے دلائل اور تجزیے کی زبان میں بتانا چاہیے کہ میرے نقطۂ نظر کے بجائے دوسرا نقطۂ نظر قرآن و سنت سے کیوں اس کے نزدیک زیادہ قریب ہے۔

کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 90۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.