سوال: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دنیا بقدرِ مقدر اور دین بقدرِ مشقت، اس معاملے کی حقیقت کیا ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں، پرویز اختر صدیقی، مہادیوا روڈ، آگرہ۔ جواب: اس معاملے میں صحیح بات یہ ہے کہ دنیا بقدرِ امتحان اور دین بقدرِ اخلاص۔ وہ تمام چیزیں جن کو دنیا کہا جاتا ہے، وہ سب امتحان کا پرچہ ہیں؛ مثلاً مال، اولاد، شہرت، مقبولیت، عہدہ، اور اقتدار۔
اللہ کو جس چیز میں جس آدمی کا امتحان لینا منظور ہوتا ہے، وہ چیز اس کو دے دی جاتی ہے۔ دنیا کی محرومی نہ تو سزا کے لیے ہے اور نہ دنیا کی فراوانی انعام کے لیے؛ دونوں ہی یکساں طور پر امتحان کے لیے ہیں۔ جہاں تک دین کا معاملہ ہے، وہ تمام تر اخلاص پر مبنی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ دین کوئی نقشۂ محنت ہے، اور اس نقشے کے مطابق جو آدمی پریکٹس کرے، اس کو پریکٹس کرتے کرتے دین مل جائے گا۔
صحیح بات یہ ہے کہ اللہ کی نظر آدمی کے اندرونی اخلاص پر ہوتی ہے۔ جس آدمی کے اندر جتنا اخلاص ہوتا ہے، اسی کے بقدر وہ اللہ کی توفیق سے دین میں ترقی کرتا رہتا ہے۔ گویا کہ اس معاملے میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ دنیا بقدرِ امتحان اور دین بقدرِ اخلاص۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 89۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.