Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-88)

Urdu · 3 min

سوال: قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین سے واپسی پر نبوت عطا کی گئی، لیکن اس وقت ان کو تورات نہیں دی گئی۔ فرعون اور اس کی قوم کے دریائے قلزم میں غرق ہونے کے بعد، کوہ طور پر 40 روز کا اعتکاف کرنے کے بعد، ان کو تورات دی گئی۔ اس کی صراحت قرآن میں کئی مقام پر آئی ہے؛ ایک جگہ ارشاد ہوا ہے: "اور ہم نے اگلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب عطا کی، جو لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ " القصص 43۔

اس آیت کے "القرون الاولیٰ" کے فقرے کے بارے میں ایک تفسیر یہ آئی ہے: یعنی اگلی قوموں سے مراد قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی گئی۔ زهد التفسیر من فتح القدیر للامام الشوكاني 512۔ نزول تورات سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت و دعوت کے اولین مخاطب فرعون اور اس کی قبطی قوم تھی۔

اس دعوت کے دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کو کس قسم کی تعلیمات بتاتے تھے، اور ان کا ذریعہ کیا تھا؟ قرآن سے اس کی صراحت نہیں ملتی، کیونکہ تورات ان کی ہلاکت کے بعد نازل ہوئی۔ کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام وہی چیز ان کے سامنے پیش تو نہیں کرتے تھے جسے ہم شریعت اسلامی میں سنت یا وحی غیر مطلوب کہتے ہیں؟ میری اس الجھن کو دور فرمائیں۔

غلام نبی سری نگر جواب: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ وہی ہے جو دوسرے تمام پیغمبروں کا معاملہ تھا۔ مصر میں وہ ابھی دورِ دعوت میں تھے، اور دورِ دعوت میں ہر پیغمبر اپنی قوم کو صرف توحید کا پیغام پیش کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ نے بھی فرعون اور قومِ فرعون کے سامنے توحید کا پیغام پیش کیا۔ جہاں تک تورات کا تعلق ہے، وہ احکام کا مجموعہ ہے۔

اس طرح کے احکام ہمیشہ اس وقت اترتے ہیں جبکہ اس کے موافق معاشرہ بن گیا بن چکا ہو۔ بنی اسرائیل جو اس وقت کے اہلِ ایمان تھے، جب وہ صحرائے سینا میں آباد ہوئے، اس وقت وہاں ان کا معاشرہ قائم ہو گیا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کے مشن کے اس دوسرے مرحلے میں تورات کی صورت میں شرعی احکام انہیں دے دیے گئے۔ یہی معاملہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی پیش آیا۔

مکے میں آپ مرحلہ دعوت میں تھے، چنانچہ اس وقت آپ مکے کے مشرکین کو توحید کا پیغام دیتے رہے۔ ہجرت کے بعد مدینے میں جب اہلِ ایمان کا معاشرہ قائم ہو گیا، اس وقت آپ پر احکام نازل کیے گئے۔ کتاب سوال و جواب جلد اول مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 88۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.