Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-87)

Urdu · 2 min

سوال: ایک حدیث اس طرح ہے کہ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے خدا کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک دنیا ختم نہ ہوگی جب تک لوگوں پر ایسا دن نہ آئے گا کہ قاتل کو یہ علم نہ ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا، اور مقتول یہ نہ جانے گا کہ میں کیوں قتل ہوا۔ کسی نے عرض کیا کہ ایسا کیوں ہوگا؟ ارشاد فرمایا کہ فتنوں کی وجہ سے قتل بہت بڑھ جائے گا۔ پھر ارشاد فرمایا: ان فتنوں میں قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں جہنم میں داخل ہوں گے۔

اس حدیث میں قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں کے جہنم میں داخل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ قتل کرنے والا جہنم میں جائے گا، یہ تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن قتل ہونے والا جہنم میں جائے گا، یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ حدیث کا اصل مفہوم کیا ہے؟ براہِ کرم مطلع فرمائیں۔

خورشید احمد شوپیان۔ جواب: اس اشکال کا جواب خود حدیث میں موجود ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو سننے کے بعد صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، قاتل کا جہنم میں جانا تو معلوم ہے، مگر مقتول جہنم میں کیوں جائے گا؟ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: «كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُرِيدُ قَتْلَ صَاحِبِهِ» ۔

النسائی، تحریم القتل، یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ قتل کا ایک واقعہ وہ ہے جب قاتل ایک طرفہ طور پر مجرم ہو اور مقتول ایک طرفہ طور پر بے قصور۔ مگر جب بگاڑ بڑھ جائے گا تو معاملہ ایک طرفہ، یعنی یونیلیٹرل، نہیں رہتا بلکہ دو طرفہ، یعنی بائی لیٹرل، ہو جاتا ہے۔ یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے دونوں یکساں طور پر سرکش ہوتے ہیں، اور صرف یہ اتفاق کی بات ہوتی ہے کہ اس دو طرفہ سرکشی کے دوران ایک شخص مارا گیا اور ایک شخص بچ گیا۔

اس دوسری صورت میں ظاہر ہے کہ دونوں ہی اللہ کے نزدیک مجرم قرار پائیں گے، کیونکہ اسلام کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 87۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.