سوال: میں فلسفے کا طالبِ علم ہوں اور اکثر و بیشتر شکوک و شبہات سے دوچار رہتا ہوں۔ فلسفے کی طرف میرا طبعی میلان ہے؛ ایک قسم کے شکوک رفع ہوتے ہی دوسرے قسم کے شکوک مجھے آ گھیرتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا فلسفے کا مطالعہ ترک کرنا ہوگا؟ اکثر لوگوں کا مجھے یہ مشورہ ہے کہ فلسفہ کوئی عملی چیز نہیں، فکری چیز ہے، اور فکری پیچیدگیوں میں پڑنا اپنا وقت برباد کرنا ہے۔
اس طرح کی باتوں سے ذہن سازی نہیں ہوتی، بلکہ ایمان و یقین کی دولت سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ طارق اشفاق، اے ایم یو، علی گڑھ۔ جواب: اس سوال کا جواب کچھ ممتاز فلسفیوں نے خود ہی کامیاب طور پر دے دیا ہے؛ مثال کے طور پر برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل نے۔ آپ اس کی کتاب "علمِ انسانی" یعنی "Human Knowledge" کو گہری نظر سے پڑھیں تو آپ اس میں اپنے سوال کا جواب پا لیں گے۔
اصل یہ ہے کہ فلسفہ کم از کم 5000 سال سے حقیقت کی تلاش میں سرگرم رہا ہے، مگر اس کو کبھی حقیقت کی دریافت نہ ہو سکی۔ اس کے برعکس سائنس کو موجودہ زمانے میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ فلسفہ علمِ کلی تک پہنچنا چاہتا تھا، جو موجودہ دنیا میں ممکن ہی نہ تھا۔ سائنس نے اسی حقیقت کو دریافت کر کے علمِ جزئی پر قناعت کر لی، اس لیے وہ کامیاب ہو گئی۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایکس رے مشین کے سامنے ایک آدمی کو کھڑا کر کے جب مشین کی سوئچ دبائی جاتی ہے تو فوراً ایک پلیٹ پر آدمی کی داخلی تصویر آ جاتی ہے۔ اب فلسفی یہ جاننا چاہے گا کہ ایسا واقعہ کیوں ہوا۔ چونکہ انسان کی اپنی محدودیتوں، یعنی limitations، کی بنا پر اس علم تک پہنچنا ممکن نہیں، اس لیے فلسفی ابدی طور پر اس میں الجھ کر رہ جائے گا۔ اس کے حصے میں آخر کار confusion کے سوا اور کچھ نہ آئے گا۔
اس کے حصے میں آخر کار confusion کے سوا اور کچھ نہ آئے گا۔ اس کے برعکس سائنس نے یہ کیا کہ "کیوں" کے سوال کو الگ کر کے "کیا ہے" کو لے لیا۔ اس طرح وہ اس میں کامیاب ہو گئی کہ انسانی تمدن کو ایک قیمتی تحفہ دے سکے۔ اس معاملے میں حقیقت پسندی کی بات یہ ہے کہ آدمی اجمالی علم پر اکتفا کرے، وہ جزئی علم پر راضی ہو جائے، اور کلی علم کے پیچھے بے فائدہ طور پر نہ دوڑے۔
قرآن میں اسی حقیقت کو ایک سوال کے جواب میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ "تم کو اس دنیا میں صرف علمِ قلیل دیا گیا ہے" (سورہ بنی اسرائیل)۔ اس مضمون کی تفصیل کے لیے راقم الحروف کی کتاب "مذہب اور سائنس" کا مطالعہ کریں۔ کتاب سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 86۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.