← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
(Page-83)
Urdu · 7 min
سوال: 1947 سے پہلے جب "دیش کا بٹوارا" نہیں ہوا تھا، تو اُس علاقے کے بیشتر مسلمان یہ کہتے تھے کہ آزادی کے بعد جو "اکھنڈ انڈیا" بنے گا، اُس میں غیر مسلموں کی میجورٹی ہوگی۔ اُس میں مسلمانوں کے لیے یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ اپنی پولیٹیکل اور کلچرل پہچان کو باقی رکھتے ہوئے زندگی گزاریں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کا ایک الگ مسلم لینڈ ہو۔ مگر جب یہ مسلم لینڈ بن گیا تو سین دوسرا تھا۔
اب یہاں کا حال یہ ہوا کہ جس کو موقع ملا وہ بھاگ بھاگ کر اُنہی ملکوں میں پہنچ گیا جہاں اُن کے نظریے کے مطابق غیر مسلم غلبہ قائم تھا۔ چنانچہ آج بڑی تعداد میں مسلمان اُنہی مغربی ملکوں میں جا کر آباد ہو گئے ہیں جہاں غیر مسلم تہذیب کا پوری طرح ڈومینیشن ہے۔ کیا یہ ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں؟ کیا اسلام ہم کو یہی سکھاتا ہے؟
اس کی وضاحت فرمائیں، عبدالرحمن ایم اے ناندیڑ۔ جواب: یہ ایک واقعہ ہے کہ 1947 سے پہلے چند مستثنیٰ شخصیتوں کو چھوڑ کر برصغیر ہند کے تقریباً تمام مسلمانوں کی سوچ یہی تھی۔ اُس زمانے میں جو لوگ یہ کہتے تھے کہ مذہب اور قومیت دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، مذہب کا تعلق عقیدے سے ہے اور قومیت کا تعلق ہوم لینڈ سے، ایسے لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ ایسے افراد کا اُس زمانے میں مسلم سماج کے اندر عزت کے ساتھ رہنا سخت دشوار ہو گیا تھا۔
یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو میں نے نہ صرف پڑھا ہے بلکہ ذاتی طور پر اس کا تجربہ کیا ہے۔ یہ بھی ایک معلوم واقعہ ہے کہ جب ایک ہنگامہ خیز تحریک کے بعد ایک الگ مسلم لینڈ بن گیا، تو یہی لوگ پہلے خود اُس مسلم لینڈ میں اپنی مادی ترقی کی کوشش میں لگ گئے، اور جب دیکھا کہ اُس مسلم لینڈ میں زیادہ بڑی ترقی کے امکانات نہیں ہیں تو وہ بھاگ بھاگ کر اُن ملکوں میں پہنچنے لگے جن کو مادی اعتبار سے ترقی یافتہ ملک، یعنی ڈیولپڈ کنٹریز، کہا جاتا ہے۔ چنانچہ آج انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، حیدرآباد اور کشمیر کے 10 ملین، یعنی 1 کروڑ سے زیادہ مسلمان یہاں سے جا کر امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں چین اور سکون کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ بلکہ وہ زبانِ حال یا زبانِ قال سے اس پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا مادی مستقبل شاندار طور پر اُن سیکولر ملکوں میں محفوظ کر لیا۔
یہ بلاشبہ ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ 1947 سے پہلے اُن مسلمانوں نے اپنی علیحدہ تہذیبی شناخت کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ انہوں نے اس معاملے میں یہاں کی غیر مسلم اکثریت سے کسی بھی مصالحت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ مولانا حسین احمد مدنی، جو متحدہ قومیت کے قائل تھے، اُن کو شیخ الاسلام کے بجائے شیخ الاسنام کہا گیا۔ اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد کو شو بوائے کا نام دیا گیا، وغیرہ۔
ان مسلمانوں نے یہاں ایسی دھواں دار تحریک چلائی کہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں بہت بڑے پیمانے پر نفرت اور کشیدگی کی فضا قائم ہو گئی۔ دونوں کے درمیان تعلقات کی اس تلخی نے اس پورے علاقے میں دعوت کے مواقع کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ نیز یہ کہ اس نام نہاد اسلامی تحریک کے نتیجے میں انڈیا کے تقریباً 20 کروڑ مسلمان، مزید اضافے کے ساتھ، عین اسی خطرے میں زیادہ شدت کے ساتھ پھنس کر رہ گئے جس خطرے سے بچنے کا نام لے کر علیحدہ مسلم لینڈ کی تحریک چلائی گئی تھی۔ یہ بلاشبہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں تقریباً یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ تمام مسلمان ایک مجرمانہ فعل کے مرتکب ہوئے ہیں جنہوں نے علیحدہ تہذیبی شناخت کے نام پر یہ ہنگامہ کھڑا کیا تھا۔ اور اب نہایت اطمینان کے ساتھ اسی قسم کی سیکولر تہذیب سے موافقت کر کے اس کے اندر پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ اسلام کے مطابق ایسے مسلمانوں کے لیے اُن کی موجودہ پرسکون زندگی کا کوئی مبرر، جسٹیفیکیشن موجود نہیں۔ ان لوگوں کے لیے جائز طور پر صرف دو میں سے ایک کا انتخاب، یعنی آپشن ہے: یا تو وہ دوبارہ اپنے حاصل کردہ مسلم لینڈ میں واپس جائیں اور وہاں کی سختیوں اور تلخیوں کو برداشت کرتے ہوئے وہاں زندگی گزاریں۔
اُن کے لیے دوسرا ممکن انتخاب یہ ہے کہ وہ کھلے طور پر اعلان کریں کہ اُن کا سابقہ نظریہ غلط تھا۔ ایک مسلمان سیکولر لینڈ میں بھی اسی طرح جائز طور پر رہ سکتا ہے جس طرح مسلم لینڈ میں۔ ان مسلمانوں کی موجودہ حالت گویا تیسرا انتخاب، یعنی تھرڈ آپشن ہے۔ اور اس معاملے میں تیسرا انتخاب بلاشبہ کوئی انتخاب نہیں۔
یہ اسی دوہرا معیار کی مثال ہے جس کو حدیث میں "الذی یأتي هؤلاء بوجه وهاؤلاء بوجه" صحیح البخاری، کتاب الادب، باب ما قيل فی ذی الوجہین کہا گیا ہے۔ اس قسم کی دوہرا روش اسلام میں اتنی زیادہ مبغوض ہے کہ اندیشہ ہے کہ اس کے ساتھ نماز اور روزہ بھی غیر معتبر ہو جائے۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اس مجرمانہ فعل کے ذمہ دار صرف وہ لوگ نہیں ہیں جو براہِ راست طور پر اس تحریک کے علم بردار بنے ہوئے تھے، بلکہ وہ لوگ بھی یقینی طور پر اس میں شریک قرار دیے جائیں گے جنہوں نے اس کے خلاف آواز بلند نہیں کی، یا اب وہ کھلے طور پر اس نظریے کی غلطی کا اعتراف نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے موقع پر کسی کا خاموش رہنا ہمیشہ بالواسطہ تائید کے ہم معنی ہوتا ہے۔
اس مسلمہ اصول کے مطابق مذکورہ جرم میں اگر کچھ لوگ براہِ راست طور پر شریک ہیں تو دوسرے لوگ بالواسطہ طور پر شریک۔ اس جرمِ عام میں مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جو کھلے طور پر اس کی غلطی کا اعلان کریں اور اس کی پرواہ نہ کریں کہ اس اعلان کا نتیجہ انہیں اپنے ہم قوموں کی طرف سے سخت ردِعمل، یعنی بیک لاش کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ کتاب، سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 83۔