← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Second question.
Urdu · 4 min
سوال: میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں، آپ کی تحریروں کو پڑھ کر میرے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا ہے کہ میں دعوت کا کام کروں۔ میری آرزو ہے کہ اپنی ڈگری لینے کے بعد میں کسی ایسے جامعہ میں داخل ہو جاؤں جو اس دور کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہو اور لوگوں کو تذکیر و تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے کے قابل بناتا ہو۔ محمد سعید، پاکستان۔ جواب: دعوت کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کا جذبہ بے حد قیمتی ہے، مگر پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک میں تعلیم و تربیت کا کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو ایک آدمی کو داعیِ کامل بنائے۔
داعی خود اپنی کوششوں سے بنتا ہے، نہ کہ کسی ادارے کی تعلیم و تربیت سے۔ پاکستان میں دعوتی کام کے عظیم مواقع موجود تھے، مگر وہاں کے اسلام پسند رہنماؤں کی ایک غلط فکر نے سارے امکان کو تباہ کر دیا۔ وہ فکر یہ کہ اسلامی دعوت کا کام اس وقت ہو سکتا ہے جبکہ یہاں اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔ اس غلط سوچ نے پاکستان کی اسلامی تحریک کو عملاً سیاسی تخریب کے راستے پر ڈال دیا۔
بہترین مواقع کے ہوتے ہوئے وہ کوئی مثبت دعوتی کام نہ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کرنے کا اصل کام اسلامائزیشن آف مین تھا، مگر ان لوگوں نے اسلامائزیشن آف اسٹیٹ کو اپنا نشانہ بنایا۔ یہ نہ صرف ایک غیر اسلامی نشانہ تھا، بلکہ وہ اللہ کی ناقدری بھی تھی۔ موجودہ زمانے میں پریس اور میڈیا اور کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ نے دعوت کے مواقع کو ہزاروں گنا وسیع پیمانے پر ہمارے لیے کھول دیا ہے۔
ایسے دور میں اسلام کے نام پر تخریبی سیاست چلانا صرف ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر میں یہ کہوں گا کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری ہے۔ اللہ نے کمیونیکیشن کے عالمی ذرائع کھول کر ہم کو یہ موقع دیا ہے کہ ہم نہایت تیز رفتاری کے ساتھ اسلام کے پیغام کو ساری دنیا تک پہنچا سکیں۔ پیغام رسانی کے اس کام میں آج کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کے نام پر تخریبی سیاست چلانا گویا اسلام کو ذبح کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی سیاست ایک ایسا جرم ہے جو اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یہ مواقع کو تباہ کرنا اور تخریبی نشانوں پر قوم کو دوڑانا ہے، جس سے بڑا کوئی جرم نہیں ہو سکتا۔ آپ جیسے نوجوانوں کو میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے حالات کے اعتبار سے دعوت کا کام شروع کر دیں۔ آپ کا دعوتی کام ہی آپ کے لیے وہ تربیت گاہ بن جائے گا جہاں آپ کو فطری عمل کے دوران دعوتی تربیت ملتی رہے۔
دعوت ہمیشہ حقیقی تجربے کے دوران سیکھی جاتی ہے، نہ کہ کسی رسمی کورس کے ذریعے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "اتقوا الله ويعلمكم الله" البقرہ 282۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کا اصل سرچشمہ تقویٰ ہے۔ آدمی کا اخلاص اور اس کا خوفِ خدا، دیانت داری اور شفقت علی الخلق اور مسئولیت کا احساس، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کے لیے علم و آگہی کی سب سے بڑی ضمانت ہیں۔
تقویٰ کا تعلق علم سے یہ ہے کہ تقویٰ آدمی کے ذہن کو بیدار کرتا ہے۔ وہ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتا ہے۔ وہ انسان کو زیادہ گہرے غور و فکر کے قابل بنا دیتا ہے۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 81۔