سوال: الرسالہ جنوری 2000 میں ایک مضمون "مستقبل کی قیادت" کے عنوان سے ہے۔ اس میں آپ لکھتے ہیں کہ ملک کے اپر کاسٹ ہندو کے پاس جو آئیڈیالوجی ہے، اس میں اونچی ذات والوں کے لیے تو باعزت جگہ ہے، مگر نیچی ذات اور غریب عوام کے لیے اس میں کوئی باعزت جگہ نہیں۔ مگر مسلمانوں میں بھی اسی طرح کی تفریق و کمزوری ہے؛ وہ کس آئیڈیالوجی یا سسٹم کے تحت ہے؟ اس گمبھیر معاملے کی وضاحت فرمائیں، انوار الحق شیخ پورہ۔
جواب: برادرانِ وطن کے اندر اونچی ذات اور نیچی ذات کی جو تقسیم ہے، وہ ان کے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کو "ورن آشرم" کہا جاتا ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف خود ہندوؤں کے بڑے بڑے اہلِ علم نے کیا ہے، مثال کے طور پر دادا صاحب کالیل کر۔ اس کے برعکس مسلمانوں میں آج جو تفریق نظر آتی ہے، وہ ایک عملی تفریق ہے؛ وہ مسلمانوں کے اپنے قومی تنزل کے سبب سے وجود میں آئی ہے۔
اس صورتحال کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے، نہ کہ اسلام پر۔ مسلمانوں کی موجودہ تفریق کو مسلمانوں کی اصلاح کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے، مگر برادرانِ وطن کے درمیان جو تفریق ہے، وہ اس وقت ختم ہوگی جب خود ان کے مذہب میں ری فارم لایا جائے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 81۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.