← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
(Page-79)
Urdu · 4 min
سوال: موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے بارے میں سنجیدہ لوگ عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی سوچ کے اعتبار سے جذباتی ہو گئے ہیں۔ ان کے اندر حقیقت پسندانہ مزاج موجود نہیں۔ جبکہ کسی بھی ترقی کے لیے غیر جذباتی سوچ اور حقیقت پسندانہ مزاج لازمی طور پر ضروری ہے۔ موجودہ مسلمانوں کا یہ مزاج کیسے بنا، اور اس کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر کے عبدالستار مدراس۔ جواب: میرے نزدیک اس غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا آغاز زیادہ نمایاں طور پر 19ویں صدی میں ہوا۔ اس زمانے میں مغربی قومیں مسلم علاقوں میں داخل ہو گئیں۔ انہوں نے تقریباً ہر جگہ براہ راست یا بالواسطہ انداز میں سیاسی اور تہذیبی طور پر غلبہ حاصل کر لیا۔
یہ وقت معاملے کی تشخیص کا تھا۔ بدقسمتی سے اس وقت کے مسلم رہنماؤں نے معاملے کی غلط تشخیص کر کے مسلمانوں کی سوچ کو غلط رخ پر ڈال دیا۔ ان حضرات نے مسلمانوں کو بتایا کہ اس واقعے کے پیچھے تمام تر مغربی قوموں کی سازش اور ان کی دشمنی ہے۔ جبکہ صحیح بات یہ تھی کہ مسلمان اب اپنے دورِ زوال میں پہنچ چکے تھے، اور دوسری طرف مغربی قومیں تازہ دم قوتوں سے مسلح ہو کر آ رہی تھیں۔
اس کے بعد جو کچھ قانون فطرت کے تحت ہوا وہ عین وہی تھا جو مقابلے کی اس دنیا میں ہمیشہ پیش آتا ہے۔ اس وقت مسلم رہنماؤں کو چاہیے تھا کہ وہ مسلمانوں سے یہ کہیں کہ جو کچھ ہوا ہے وہ قانون فطرت کے تحت ہوا ہے اور خود تمہاری اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ ایسا کہتے تو مسلمانوں میں تعمیرِ خویش کا جذبہ جاگ اٹھتا۔ مگر جب انہوں نے اس معاملے کو اغیار کی سازش اور دشمنی کا نتیجہ قرار دیا تو مسلمانوں میں غیر قوم کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی۔
پورا مسلم معاشرہ منفی سوچ کا شکار ہو گیا۔ اس کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو آپ نے جذباتی سوچ کا نام دیا ہے۔ اس طرح تقریباً 200 سال پہلے مسلمانوں کے اندر جذباتی طرزِ فکر شروع ہوا۔ وہ بڑھتے بڑھتے پوری مسلم ملت پر چھا گیا۔
اب ضرورت ہے کہ اس جذباتی طرزِ فکر کو توڑا جائے اور لوگوں میں حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے۔ مگر یہ کام ایک بھاری قربانی چاہتا ہے، اور وہ قربانی شخصی مقبولیت کی قربانی ہے۔ جو آدمی اس مزاج کو ختم کرنے کے لیے اٹھے گا، یقینی طور پر وہ مسلمانوں میں غیر مقبول ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ملت کے فہیم حضرات مصلحت کا انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔
وہ مسلمانوں کے مزاج کو توڑنے کے بجائے اس کو وہ غذا دے رہے ہیں جو اس کو پسند ہے، تاکہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے اندر غیر مقبول ہونے سے بچائیں۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو ایک ڈیگال کی ضرورت ہے، یعنی وہ شخص جو اپنی مقبولیت کی موت کے اوپر مسلمانوں کی زندگی کی بنیاد رکھ سکے۔ جو مسلمانوں کی جذباتیت کو ختم کر کے ان کو حقیقت پسند بنائے۔ جو آدمی جذباتی تسلسل کو توڑنے کی کوشش کرے گا، ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کی پہلی نسل میں غیر مقبول ہو جائے گا۔
مگر یہی وہ حوصلہ مند شخص ہے جو اپنی ذاتی قربانی کی بنیاد پر ملت کے مستقبل کی تعمیر کرے گا۔ تاریخ کو ایسے ہی ایک بہادر انسان کا انتظار ہے۔ کتاب: سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 79۔