سوال: آپ کے خیال میں علم و فکر کی فوقیت عمل پر ہے، جیسا کہ عام خیال ہے کہ عمل پہلے ہے اور فکر بعد میں؟ اسلام کی روشنی میں واضح فرمائیں، طارق اشفاق علی گڑھ۔ جواب: اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں، کامن سینس ہی اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ کوئی بھی آدمی جو کوئی بڑا عمل کرتا ہے، اس کے عمل کا آغاز فکر کی دنیا سے ہوتا ہے۔
آدمی کے اندر فکر کی سطح پر ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے، اور پھر وہ خارجی عمل کی صورت اختیار کرتی ہے۔ یہی معاملہ ایمان و عمل کا بھی ہے۔ اسلام میں بھی خارجی عمل کا اصل سرچشمہ داخلی ایمان ہے۔ کسی آدمی کے اندر جتنا گہرا ایمانی شعور پیدا ہوگا، خارجی دنیا میں اتنا ہی زیادہ اس سے عمل کا اظہار ہوگا۔
کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 77۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.