سوال: آپ نے الرسالہ مئی 2000 میں لکھا ہے کہ الجزائر کے اسلام پسندوں کو بندوق اٹھانے کے بجائے اسلامی دعوت کا کام کرنا چاہیے۔ گویا کہ آپ اسلام کو سیاست سے دور رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں، حالانکہ اسلامی شاعر کے بقول "جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی"۔ معراج ناندیڑ۔ جواب: مسئلہ دین کو سیاست سے جدا کرنے کا نہیں ہے، بلکہ دین کو چنگیزی سے جدا کرنے کا ہے۔
دین کے نام پر سیاست چلانا خود چنگیزی کی بدترین قسم ہے، کیونکہ اس وقت کی سیاست سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ دین نہیں ہے بلکہ سیاسی ہنگامہ آرائی، تشدد اور باہمی جنگ و جدال ہے، جس کا نمونہ آج ہر اس جگہ نظر آتا ہے جہاں نام نہاد اسلام پسند اسلام کے نام پر اپنی سیاست چلا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دین جب جدا ہوتا ہے تو وہ سیاست سے جدا نہیں ہوتا، بلکہ وہ انسان سے جدا ہوتا ہے۔ انسان کے دل سے جب اللہ کا خوف نکل جاتا ہے تو اس کی سیاست اور غیر سیاست سب چنگیزی بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو انسان اللہ کی پکڑ کا اندیشہ رکھتا ہو، اس کی سیاست بھی رحمت ہوگی اور اس کی غیر سیاست بھی رحمت۔
کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 77۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.