Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-75)

Urdu · 3 min

سوال: میں آپ کے الرسالہ کا خریدار ہوں، ایک حدیث کی وضاحت چاہتا ہوں۔ حدیث یہ ہے: "اذان کے وقت کی دعا قبول ہوتی ہے"۔ کیا مطلب ہے؟ کیا باقی اوقات میں اللہ تعالیٰ دعا قبول نہیں کرتا؟

یہ حدیث صحیح ہے یا غلط ہے، یا مشکوک ہے؟ معلوم کریں۔ محمد موسیٰ مانوی، کرناٹک۔ جواب: آپ نے حدیث کا ذکر کیا ہے، اس کے اصل الفاظ یہ ہیں: إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَادْعُوا.

مسند احمد، الترمذی، کتاب الصلوۃ۔ یعنی اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی، پس تم اس وقت اللہ سے دعا کرو۔ اس حدیث میں جو بات وقت کے حوالے سے کہی گئی ہے، وہ دراصل کیفیت کے حوالے سے مقصود ہے۔ اذان کو سن کر مومن کے اندر یادِ خدا کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں، اس بنا پر اس وقت کی دعا میں وہ تاثیر پیدا ہو جاتی ہے جو قبولیت کی علامت ہے۔

اس حدیث کا خطاب اس مومن سے ہے جس نے مسجد سے اذان کی آواز سنی، اور پھر اس کے دل میں وہ ربانی جذبات پیدا ہونے لگے جن کا اعلان اس وقت مؤذن کر رہا تھا۔ وہ اللہ کی کبریائی اور اس کی عظمت کے احساس سے بھرا ہوا مسجد میں آیا، یہاں اس نے وضو کر کے اپنے کو پاک کیا، یہاں تک کہ اس کی زبان سے نکلا: رَبِّ جَعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ. اس کے بعد وہ مسجد کے خدا پرستانہ ماحول میں داخل ہوا اور سنت کی رکعتیں ادا کر کے اللہ کی یاد کو اپنے دل میں تازہ کیا۔ اس طرح اذان اور اقامت کے درمیان وہ ایک ایسا انسان بن گیا جو ایمانی جذبات سے سرشار تھا، اور نفسیاتی اعتبار سے اس قابل بن چکا تھا کہ اس کی زبان سے ایسے پاکیزہ کلمات نکلیں جو سیدھے اللہ تک پہنچ جائیں۔

یہی وہ انسان ہے، نہ کہ وقت، جس کو خطاب کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ اے بندے! خدا سے دعا کر، کیونکہ اس وقت تو جس حال میں ہے، اس حال میں کی ہوئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ یہاں دعا کا مطلب دعا کے الفاظ منہ سے بول دینا نہیں ہے، بلکہ دعا کا حقیقی عمل کرنا ہے۔ دعا کا عمل یہ ہے کہ آدمی جذبۂ احتیاج کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو، ایک طرف اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کو یاد کر کے وہ اس کو پکارے۔

جب ایک بندہ اس عملِ دعا کے لیے بیٹھے تو اذان اور اقامت کے درمیان کا وقت اس عمل کے لیے اسی طرح انتہائی معاون ثابت ہوگا جس طرح گرمی کا موسم لکڑی میں آگ لگانے کے لیے معاون ہوتا ہے۔ جس طرح گرمی کے ماحول میں جلانے کا عمل کیا جائے تو لکڑی فوراً آگ پکڑ لیتی ہے، اسی طرح جب اذان اور اقامت کے درمیان پُراثر ماحول میں ایک شخص دعا کا عمل کرے تو اس کے اندر وہ کیفیات اُمنڈ پڑتی ہیں جو اس کی دعا کو حقیقی معنوں میں بندے کی پکار بنا دیں، جو اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو وہ ربانی الفاظ بنا دیں، جس کے بعد دعا کی قبولیت کا معاملہ ٹھیک ویسا ہی بن جاتا ہے جیسے گرمی کے موسم میں لکڑی کو جلانا۔ سخت گرمی کے موسم میں دیا سلائی جلاتے ہی لکڑی آگ کو پکڑ لے گی، اسی طرح اذان اور اقامت کے درمیان پُراثر فضا تیار ہو جاتی ہے جبکہ بندے کی زبان سے حقیقی دعا نکلے اور اس کا رب اس کو فوراً قبول کر لے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 75۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.