Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-74)

Urdu · 3 min

سوال: آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ سارے لوگ آپ کی بولی بول رہے ہیں، یہاں تک کہ آپ کے مخالفین بھی آپ کا نام لیے بغیر آپ کی باتوں کو دہرا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ماہ نامہ میثاق اپریل 2000 میں پاکستان کی تنظیم اسلامی کے امیر کا مفصل خطاب چھپا ہے؛ اس میں انہوں نے صلح حدیبیہ کی پالیسی کی حمایت کی ہے اور یہ کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کے طرز کی مفاہمت ہمارے مسئلے کا حل ہے، حالانکہ یہ صاحب پہلے آپ کے مخالف تھے اور جوش و خروش کے ساتھ مسلح جدوجہد یعنی armed struggle کی بات کیا کرتے تھے۔ یہی بات دوسرے اکثر لکھنے اور بولنے والوں میں دیکھی جا رہی ہے۔ اس طرح آپ کے اعتراف کے بغیر تقریباً تمام لوگوں نے آپ کے نقطۂ نظر کو مان لیا ہے۔

اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہے، عبدالرحمٰن نعیم دہلی؟ جواب: یہ بات عملی طور پر اطمینان بخش ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اب عام طور پر حقیقت پسندی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں، مگر میرے لیے اس میں بہت زیادہ خوشی کی بات نہیں۔ میں حدیبیہ کی وکالت بطور ایک اصول کرتا ہوں، مگر یہ حضرات اس کو ایک مجبورانہ عمل کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔ مثلاً ماہ نامہ میثاق کے مذکورہ خطاب میں حدیبیہ پالیسی کی وکالت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کے طرز کی مفاہمت کرنی چاہیے۔

صفحہ 25: پاکستان جس مسئلے سے دوچار ہے اس کا علاج صلح حدیبیہ ہے۔ صفحہ نمبر 15: پاکستان کے لیے جنگ جیتنا ممکن نہیں، کیونکہ پاکستان سے کہیں زیادہ ایٹم بم بھارت کے پاس موجود ہیں۔ صفحہ نمبر 22: جہاں تک میرا تعلق ہے، میں جو کچھ کہتا ہوں بطور اصول کہتا ہوں، نہ کہ بطور مجبوری۔ صبر میرے نزدیک ایک اعلیٰ اصول ہے، نہ کہ مجبورانہ روش۔

اسی طرح صلح حدیبیہ میرے نزدیک ایک اعلیٰ اسلامی اصول ہے، وہ کوئی مجبورانہ پالیسی نہیں۔ میں اس کا قائل نہیں ہوں کہ جب مجبوری کی فضا نہ ہو تو مسلح تصادم کی باتیں کی جائیں، اور جب مجبوری کی حالت پیش آ جائے تو صلح حدیبیہ کا وعظ شروع کر دیا جائے۔ صلح حدیبیہ میرے نزدیک دعوتی عمل کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کی ایک حکیمانہ تدبیر ہے، نہ کہ کسی قسم کی مجبورانہ روش۔ کتاب: سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 74۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.