سوال: سلمان رشدی کی کتاب "شیطانی آیات" یعنی The Satanic Verses کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کہا جاتا ہے کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، اور اس کا مصنف ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوا ہے جس کی سزا سخت ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ نکھت کاظمی، نئی دہلی۔
جواب: اسلام کی تعلیمات حقیقت پسندی پر مبنی ہیں؛ اس طرح کے معاملات کو اسلام میں جذباتی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جاتا، بلکہ رزلٹ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم باطل معبودوں کو برا نہ کہو، ورنہ لوگ جہالت کی بنا پر خدا کو برا کہنے لگیں گے۔ الانعام 108۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم مدینے کے سب سے بڑے گستاخ، عبداللہ ابن ابی کو پیغمبر اسلام نے طاقت کے باوجود قتل نہیں کرایا۔
اس کی وجہ آپ نے یہ بتائی کہ اگر میں ایسا کروں تو وہ اسلام کی بدنامی کا باعث ہوگا۔ چنانچہ عبداللہ ابن ابی اپنی طبعی موت مرا، اور اس کو قتل نہیں کیا گیا، حالانکہ اس وقت عبداللہ ابن ابی کو قتل کرنا بالکل آسان تھا۔ سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ 17 فروری 1989 کو دیا گیا تھا۔ اس واقعے کو اب تقریباً 12 سال ہو رہے ہیں، مگر نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو اس فتوے نے صرف الٹا نتیجہ پیدا کیا ہے۔
اس کے بعد ساری دنیا میں بڑے پیمانے پر اسلام کی بدنامی ہوئی، اسلام کو نفرت اور تشدد کے مذہب کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا۔ اس کتاب کے خلاف فتویٰ اور شور و غل سے اس کے مصنف کو تو زبردست فائدہ حاصل ہوا، جبکہ اسلام اور مسلمانوں کے حصے میں صرف اس کا نقصان آیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ میڈیا کا دور تھا، اور جدید میڈیا کے دور میں یقیناً وہی ہونے والا تھا جو عملاً پیش آیا۔ سلمان رشدی کی مذکورہ کتاب میں نے پڑھی ہے۔
میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب تصنیفی اعتبار سے اس قدر لغو اور غیر دلچسپ ہے کہ شاید کوئی بھی شخص اس کو شروع کر کے ختم نہیں کر سکتا۔ عام حالت میں وہ ایک ایسی کتاب تھی جو اپنی لغویت کی بنا پر اپنے آپ مر جاتی۔ اس کو نہ کوئی خریدتا اور نہ اس کو کوئی پڑھتا۔ مگر مصنف کے قتل کے فتوے کے بعد جب میڈیا میں اس کا چرچا ہوا تو فطری طور پر لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے، اور اس طرح ایک ناقابلِ مارکیٹ کتاب بھی قابلِ مارکیٹ، یعنی مارکیٹیبل کتاب بن گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس فتنے کا صحیح ترین حل یہ تھا کہ اس کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جاتا، اور اس طرح یقینی طور پر وہ اپنے آپ مر جاتا۔ اس طرح کے مسئلے کا صحیح ترین حل وہ ہے جو اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق کے اس قول میں ملتا ہے۔ انہوں نے کہا: "أميت الباطل بالصمت عنه" یعنی باطل کو ہلاک کرو اس پر چپ رہ کر۔ "Kill the falsehood by observing silence over it." کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 73۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.