Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-71)

Urdu · 4 min

سوال: ہم لوگوں نے ہندو مسلم میل ملاپ کا ایک منچ بنایا ہے، اس کے بارے میں ہم کو مارگ درشن کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب مذاہب ایک ہیں، جیسے رام ویسے محمد۔ یہ بات دونوں مان لیں تو آپس میں اپنے آپ میل ملاپ ہو جائے گا۔ بلراج ملک اور وجے آنند پانی پت۔

جواب: ہندو مسلم میل ملاپ کا مقصد بہت اچھا ہے، مگر "سب مذاہب ایک ہیں" کے نظریے سے یہ مقصد حاصل ہونے والا نہیں۔ اس لیے کہ یہ بات اصل واقعے کے خلاف ہے۔ مثلاً ہندو عقیدے کے مطابق رام خدا کے اوتار تھے، یعنی ان کی صورت میں خود خدا مجسم ہو کر آیا۔ مسلمان اوتار وات کے اس عقیدے کو نہیں مانتے۔

ان کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان تھے جن پر خدا نے اپنی وحی بھیجی۔ ایسی حالت میں دونوں کو ایک کہنے سے جس چیز کو فروغ ہوگا، وہ منافقت یعنی ہائپوکریسی ہے، نہ کہ فرقہ وارانہ میل ملاپ۔ ہندو مسلم میل ملاپ کا منچ بنانے کے لیے مفید طریقہ یہ ہے کہ اس کو سیکولر پیٹرن پر بنایا جائے، نہ کہ کسی مذہبی پیٹرن پر۔ 1947 سے پہلے کانگریس کے لوگ جو اسٹیج بناتے تھے، اس پر ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی کافی تعداد میں آتے تھے۔

مگر آج ہندوتوا کو ماننے والے جو اسٹیج بناتے ہیں، اس پر زیادہ تر ایک فرقے کے لوگ آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ہندوتوا والا اسٹیج بناتے ہیں، وہ وہاں سرسوتی دیوی کی وندنا کرتے ہیں اور کھڑے ہو کر وندے ماترم گاتے ہیں۔ مسلمان چونکہ ان چیزوں سے بھڑکتے ہیں، اس لیے وہ ایسے اسٹیج پر اکھٹا نہیں ہوتے۔ جبکہ کانگریس کے اسٹیج پر اس قسم کی مذہبی رسمیں نہیں تھیں، بلکہ وہ بالکل سیکولر انداز میں ہوتا تھا۔

اس لیے وہاں ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی یکساں طور پر شریک ہوتے تھے۔ اگر آپ ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترک منچ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ایسی چیزوں سے بچنا ہوگا جو دونوں کے لیے حساس ایشو یعنی سینسیٹو ایشو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً اگر آپ اپنے منچ پر یہ کہیں کہ اجودیہ کے موجودہ عارضی مندر کو ڈھا کر وہاں دوبارہ بابری مسجد بنائی جائے، تو ایسے منچ پر مسلمان تو آ سکتے ہیں مگر وہاں ہندو نہیں آئے گا۔ اسی طرح اگر آپ اپنے منچ پر یہ کہیں کہ جانوروں کا ذبیحہ بالکل ختم کر دیا جائے، تو ایسے منچ پر ہندو آ سکتے ہیں مگر وہاں مسلمان نہیں آئے گا۔

اس لیے آپ کو دونوں فرقوں کے میل ملاپ کا منچ بنانا ہے تو آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ اس قسم کے حساس ایشو کو نظر انداز کریں اور صرف ان باتوں کو لیں جو دونوں کے درمیان مشترک ہیں۔ مثلاً امن، باہمی محبت، سوشل جسٹس، تعلیم، ملک کی مادی تعمیر، سماج سدھار وغیرہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالت میں ہندوستان کے لیے وہی قابل عمل ہے جو یورپ اور امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس معاملے کا ایک عملی فارمولا دریافت کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ پرائیویٹ دائرے میں ہر آدمی کے لیے مذہب کی مکمل آزادی، اور اجتماعی دائرے میں مشترک مفاد والی باتوں پر زور دینا۔

موجودہ حالات میں ہم کو بھی یہی کرنا چاہیے۔ میرے نزدیک فرقہ وارانہ میل ملاپ یا مذہبی ہم آہنگی کا بہترین قابل عمل فارمولا یہ ہے کہ ایک پر عمل کرو اور سب کا احترام کرو، فالو ون اینڈ ریسپیکٹ آل۔ برصغیر ہند کے تقریباً 15 ملین ہندو اور مسلمان امریکہ میں رہتے ہیں۔ وہاں دونوں کے درمیان کوئی مذہبی جھگڑا نہیں۔

دونوں نے بڑی تعداد میں مسجد اور مندر بنائے ہیں، اور ہر فرقہ اپنے اپنے انداز پر اپنے مذہبی فرائض کو ادا کرتا ہے۔ پھر اگر امریکہ میں ہندو اور مسلمان مذہبی یکسانیت کے فارمولے کے بغیر اتحاد کے ساتھ رہ سکتے ہیں، تو یہی چیز ہندوستان میں کیوں ممکن نہیں؟ کتاب: سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 71۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.