سوال: آج کل دستورِ ہند میں تبدیلی کی بحث چھڑی ہوئی ہے؛ کوئی تبدیلی کی موافقت میں رائے دیتا ہے اور کوئی اس کی مخالفت میں۔ اس معاملے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ براہِ کرم مطلع فرمائیں، ودود ساجد نعید علی۔ جواب: دستورِ ہند میں تبدیلی کی بحث میں ایک رائے یہ سامنے آ رہی ہے کہ دستور میں تبدیلی ہونی چاہیے، اور دوسری رائے یہ ہے کہ دستور میں تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔
مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہاں تیسری رائے کا بھی امکان ہے، اور وہ یہ کہ دستورِ ہند میں تبدیلی بے فائدہ ہے۔ اس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے کہ دستورِ ہند میں تبدیلی کیوں؟ 1947 کے بعد جب یہ دستور بنا تو اس وقت ملک کے انتہائی اعلیٰ ذہن دستور ساز اسمبلی کے ممبر تھے، انہوں نے لمبی بحث اور گفتگو کے بعد یہ دستور بنایا۔ اب کیا ان سے زیادہ بہتر دماغ ہمیں حاصل ہو گئے ہیں جو اس سے اچھا دستور بنا سکیں؟
میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شخص ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا، پھر تبدیلی کس لیے؟ دوسری بات یہ کہ دستور میں تبدیلی ہمارے قومی مسائل کا حل ہے، اس کا دعویٰ کرنا بھی مشکل ہے۔ اس لیے کہ اگر دستور کی ترمیم سے مسئلہ حل ہوتا ہو تو اب تک اس کو حل ہونا چاہیے تھا، کیونکہ پچھلے 50 سال کے دوران اس میں 70 بار سے زیادہ ترمیمات ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا، پھر ایک اور ترمیم سے یہ مسئلہ کیسے حل ہو جائے گا؟
تیسری صورت ترمیم برائے ترمیم کی ہے، ظاہر ہے کہ وہ اور بھی زیادہ بے معنی ہے۔ کوئی بھی شخص یہ کہنے کی جرات نہیں کرے گا کہ ترمیم ایک مسلسل عمل ہے جس کو ہر حال میں جاری رہنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اصل سوال یہ نہیں ہے کہ دستور میں ترمیم کی ضرورت ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترمیم کے باوجود یہ ضرورت کیوں باقی ہے؟ کیوں ایسا ہے کہ ترمیم کے باوجود ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے؟
اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ ہے تعلیم میں ملک کا پچھڑا پن۔ تعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے، اور اس کے اندر اصلاح کی قبولیت پیدا کرتی ہے۔ جب تک یہ ابتدائی کام نہ ہو، کوئی دوسری تدبیر ہمارے مسائل کو حل کرنے والی نہیں۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 70۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.