Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-65)

Urdu · 6 min

سوال: قرآن کی آیت "هُدًى لِلْمُتَّقِينَ" سورہ نمبر 2 آیت 2 میں لفظ "متقین" اپنے اصطلاحی معنی میں ہے یا لغوی معنی میں؟ اصطلاحی معنی میں لیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ قرآن متقین بالفاظ دیگر مسلمین کے لیے تو ہدایت ہے، وہ غیر مسلمین کے لیے ہدایت نہیں۔ اور اگر لغوی معنی میں لیں تو اگلی آیتوں میں متقین کی جو تعریف بیان کی ہے، کہ وہ لوگ ایمان بالغیب رکھتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں، یہ تعریفات غیر مسلمین پر کیسے صادق آ سکتی ہیں؟ کیا ایمان بالغیب اور اقامتِ صلاۃ اور انفاق کو بھی لغوی معنی میں لے کر اس مشکل کو حل کیا جا سکتا ہے؟

ابرار احمد رفعت، سورت۔ جواب: قرآن عام طرز کی ایک مجرد تصنیف نہیں؛ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کے مختلف اجزا حالات کی نسبت سے نازل ہوتے رہے، یہاں تک کہ تقریباً 23 سال میں اس کی تکمیل ہوئی۔ قرآن فہمی کے سلسلے میں یہ ایک بے حد اہم نکتہ ہے۔ اس بنا پر ایسا ہے کہ قرآن کی ہر آیت کا ایک مصداق خاص ہے جو سببِ نزول کے اعتبار سے ہے، اور دوسرا اس کا مصداق عام جو آیت کے توسیعی انطباق سے تعلق رکھتا ہے۔

اس کی ایک مثال سورہ النور کی یہ آیت ہے: "وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ مِنْهُمْ" سورہ النور آیت 11۔ سببِ نزول کے اعتبار سے اس آیت کا ابتدائی مصداق قدیم مدینے کا عبداللہ ابن ابی تھا، اور آیت کے توسیعی انطباق کے اعتبار سے اس میں ہر وہ آدمی شامل سمجھا جائے گا جو کسی کو بدنام کرنے کے لیے ابن ابی جیسا پست کردار ادا کرے، خواہ وہ کسی بھی زمانے سے تعلق رکھتا ہو۔ اب سورہ البقرہ کی ابتدائی آیتوں کو لیجیے: اس کی آیت نمبر 1 سے لے کر آیت نمبر 7 تک کا خطاب رسول اللہ کے معاصر یہود سے ہے۔ اس کے آیت نمبر 8 سے لے کر آیت نمبر 20 تک کا تعلق قدیم مدینے کے منافقین سے ہے۔

اس کے بعد آیت نمبر 21 سے لے کر آیت نمبر 24 تک عام انسانیت سے خطاب کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر 25 سے اہلِ ایمان کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔ سببِ نزول کے اعتبار سے ان میں سے ہر آیت کا کوئی وقتی مصداق ہو سکتا ہے، مگر اسی کے ساتھ ہر آیت کا ایک توسیعی انطباق بھی ہے جو ہر دور کے انسانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ذالک الکتاب میں "الف لام عہد" کا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہی معہود کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہود و نصاریٰ پر جو آسمانی کتابیں بھیجی گئیں، ان میں ایک آخری آسمانی کتاب کی بشارت موجود تھی۔ قرآن وہی آخری اور محفوظ کتاب ہے، مگر اس سے ہدایت اسی کو ملے گی جو اس کی ضروری شرطوں کو پورا کرے۔ مدینے میں اس وقت جو یہود آباد تھے، وہ اپنے آپ کو اپنے نبیوں کی تعلیمات کا حامل بتاتے تھے۔

ان کے یہاں ایمان، نماز، زکوۃ وغیرہ کا وجود بھی پایا جاتا تھا، مگر ان کے یہاں اس کی اصل روح غائب ہو چکی تھی۔ فرمایا کہ قرآن اگرچہ سراپا کتابِ ہدایت ہے، مگر اس کے ذریعے صرف اس شخص کو ہدایت ملے گی جس کے اندر حقیقی معنوں میں متقیانہ مزاج پایا جاتا ہو۔ "الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ" جو غیبی حقیقتوں کو ماننے کے لیے تیار ہو، جس کے اندر عبادتِ الٰہی کی روح موجود ہو، نمائشی راستے کے بجائے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، جو اپنی مذہبی عصبیت میں مبتلا نہ ہو۔ جو لوگ اس قسم کی صفات رکھتے ہوں، وہ بہت جلد قرآن اور صاحبِ قرآن کو پہچان لیں گے اور اس سے ہدایت حاصل کریں گے۔

اس کے بعد ان آیتوں کا ایک عمومی اور توسیعی پہلو ہے۔ اس اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن اپنی ذات میں بلاشبہ ہدایت ہے، مگر اس دنیا میں کسی کتاب سے ہدایت لینے کے لیے ضروری ہے کہ ہدایت لینے والا ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہو۔ متقی کا اصلی اور لغوی مفہوم "محتاط" یعنی cautious ہے۔ انسان کی یہی صفت ہے جو اس کو حق کے معاملے میں سنجیدہ بناتی ہے، اور وہ اس کا سچا متلاشی بن جاتا ہے۔

اسی طرح ایمان کی اصل "معرفت" ہے، اور معرفت صرف اس کو ملتی ہے جو دلیل سے ثابت ہونے کے بعد اس کو مان لینے کا مزاج رکھتا ہو۔ صلاۃ کی شرط سے مراد یہ ہے کہ آدمی کے اندر تسلیم و رضا یعنی submission کی صفت موجود ہو۔ زکوۃ کی اصل حقیقت اپنی ذات میں دوسرے کا حق تسلیم کرنا ہے۔ ہر منزل کتاب پر ایمان لانے کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی گروہی تعصبات سے پاک ہو، وہ اپنے مانوس اکابر کے باہر ظہور آنے والے داعیانِ حق کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

مصداق عام کے اعتبار سے پانچ بنیادی صفتیں ہیں۔ یہ صفتیں ہر انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہیں۔ جو شخص اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھے، وہ گویا قرآن سے ہدایت لینے کے لیے ایک تیار ذہن یعنی prepared mind ہے۔ جب بھی وہ کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھے گا تو وہ اس کے لیے معرفتِ حق کا ذریعہ بن جائے گا، اور اس کا وہی حال ہوگا جس کا ذکر قرآن کی سورہ المائدہ آیت نمبر 83 میں کیا گیا ہے۔

کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 65۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.