Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-62)

Urdu · 5 min

سوال: میں آپ کے ذہن و دماغ کا قائل ہوں، ساتھ ہی آپ کی خلوصِ نیت کا بھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلمان آج بھی اپنی دیرینہ طرزِ فکر سے نکل نہیں پا رہے ہیں، اور آج بھی نام نہاد قائدین کو اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔ قائدین کی اُن غلطیوں کو ماننا پہلے دشوار معلوم ہوتا تھا، مگر اب حقائق کی کثرت نے اُن کے تمام فارمولوں کو فیل کر دیا۔ پہلے آپ کی فکر میں آپ کو اکیلا تصور کر رہا تھا، مگر حالات و واقعات کا بغور مطالعہ آپ کی فکر کی تائید کرتا ہے۔

آپ کی جانب سے پیغام اور مثبت طرزِ فکر، ان دونوں کو میں نے گانٹھ باندھ لیا ہے۔ مسائل کو نظرانداز کر کے مواقع کا استعمال نہایت ہی بہترین فارمولا ہے۔ دراصل ہمارے زیادہ تر سیاسی رہنما idealist واقع ہوئے ہیں، نہ کہ realist۔ اور اول الذکر کی بنیاد پر ایک خیالی دنیا کو— اور اول الذکر کی بنیاد پر ایک خیالی دنیا تو تعمیر ہو سکتی ہے، مگر حقیقی کامیابیوں سے بھرپور دنیا نہیں۔

مجھے تعجب اس بات کا ہے کہ آخر آپ اپنے ہم عصروں کی فکر کی زد سے کیسے نکل آئے، جبکہ آج بھی اُن لوگوں کی فکر مسلمانوں کے اوپر حکمران ہے۔ یہی بات آپ کی ذہانت کی دلیل ہے۔ آپ جیسے زیرک حضرات کا آج فقدان ہے، اور خدا سے دعا ہے کہ آپ جیسے لوگوں کو نوبل انعام سے نوازا جائے۔ میں علامہ اقبال کا admirer رہا ہوں، اور اُن کی فکر پر تنقید کو طفلانہ سمجھتا تھا۔

مگر آپ کی بے لاگ تنقید نے علامہ کی فکر کا جائزہ لینے میں بڑی مدد کی ہے۔ میں اب بتدریج idealism سے realism کی طرف آ رہا ہوں، اور میری اس دریافت میں آپ کا بڑا ہاتھ ہے۔ تاریخ اشفاق، عماد الملک روڈ، ایم اے یو، علی گڑھ۔ جواب: حدیث میں آیا ہے کہ "إن الدين يسُرٌ"، صحیح البخاری، کتاب الایمان۔

یعنی دین آسان ہے۔ اس کے مطابق دین کو سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہونا چاہیے، اور بلاشبہ اس کا سمجھنا آسان ہے۔ البتہ خدا کے دین کو سمجھنا اس وقت مشکل ہو جائے گا جبکہ آدمی خدا کے دین کو غیرِ خدا سے اخذ کرنے لگے۔ موجودہ زمانے میں یہی پیش آیا ہے۔

لوگ عام طور پر دین کو اپنے مفروضہ اکابر کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی چیز لوگوں کے لیے فہمِ دین میں پردہ بن گئی ہے۔ میں خدا کے فضل سے کبھی بھی اکابر پرستی کا شکار نہیں رہا۔ میں امام ابو حنیفہ کے اس قول کو مانتا ہوں کہ "هم رجال ونحن رجال" اس لیے میں خود براہِ راست قرآن و سنت سے دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

اور اس دنیا کے لیے خدا کا یہ قانون ہے کہ جو شخص صحیح راستے سے کوشش کرے، وہ ضرور اپنے مقاصد کو پائے گا، من جدّ وجدہ۔ اقبال کی مقبولیت کا سبب کیا ہے؟ وہ خود اقبال کے ایک شعر سے معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے بارے میں کہا: "مرا یاراں غزل خوانے شمردن، لوگوں نے مجھے ایک غزل خواں سمجھ لیا۔

" غالباً اقبال یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اشعار قوم کے اندر نئی سوچ لائیں گے اور لوگ تعمیرِ ملت کے محاذ پر سرگرم ہو جائیں گے۔ مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ اقبال کے اشعار لوگوں کے لیے ذہنی تفریح کا سامان بن گئے۔ اقبال نے اپنے مذکورہ شعر میں غالباً اسی کی شکایت کی ہے۔ مگر یہ خود اقبال کی غلطی ہے، ان کا یہ سمجھنا درست نہ تھا کہ اشعار کے ذریعے وہ قوم کے اندر کوئی حقیقی بیداری لا سکتے ہیں۔

شعر ایک لفظی آرٹ ہے۔ وہ انسان کے لیے صرف ذہنی تفریح کا سامان بن سکتا ہے۔ شعر کسی حقیقی اصلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پیغمبرِ اسلام کے لیے فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو شعر نہیں سکھایا، اور وہ اس کے لیے مناسب نہیں۔

سورہ یاسین، آیت 69۔ مصلح یا داعی نثر کی زبان میں کلام کرتا ہے۔ شعر کی زبان مصلح اور داعی کی زبان نہیں۔ لوگ عام طور پر تفریح پسند ہوتے ہیں۔

لوگ عام طور پر تفریح پسند ہوتے ہیں، اس لیے تفریحی کلام تیزی سے لوگوں میں مقبول ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سنجیدہ نثر لوگوں کے درمیان کم مقبول ہوتی ہے۔ مگر مذکورہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی اصلاح کا کام ہمیشہ نثر کی زبان میں ہوتا ہے، نہ کہ ردیف اور قافیے کی زبان میں۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 62۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.